سینٹ انتخابات کے نتائج سے جے یو آئی کے موقف اور بیانیہ کو تقویت ملی ،حافظ حسین احمد

سینٹ انتخابات کے نتائج سے جے یو آئی کے موقف اور بیانیہ کو تقویت ملی ،حافظ حسین احمد

کوئٹہد(زیبائے پاکستان آئی این پی)جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کے جونتائج سامنے آئے اس سے جے یو آئی کے موقف کو تقویت ملی ہے، سینٹ کے نتائج نہ خلاف توقع ہیں اور نہ ہی اس سے ہمیں مایوسی ہوئی ، پچھلے سال فارم 45نے کرشمہ دکھایا اب چیئرمین سینٹ کو بھی 45ووٹ سے بچایا گیا، یکم اگست کو 14سینیٹرز کے ساتھ جو کیا گیا وہ 14اگست کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، ضمیر کا سودا کرنے والوں کی تلاش جاری ہے مگر ضمیر خریدنے والوں کی نشاندہی ہوچکی ہے۔ وہ جمعہ کے روز اپنی رہائشگاہ جامع مطلع العلوم میں ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کررہے تھے، اس موقع پر حافظ منیر احمد ایڈوکیٹ، مولوی محمد طاہر توحیدی، حافظ زبیر احمد، حافظ محمود احمد، حافظ اعجاز الحق چوہدری، مولانا ثناء اللہ، ظفر حسین بلوچ اور دیگر بھی موجود تھے، حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ چیئرمین سینٹ کیخلاف عدم اعتماد کے جو نتائج سامنے لائے گئے اس سے جے یو آئی کے موقف اور مولانا فضل الرحمن کے بیانیہ کو تقویت ملی ہے، جے یو آئی کی قیادت نے جو موقف پچھلے سال 25جولائی کے انتخابات کے بعد اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کے سامنے رکھا تھا جس کو اپنی مصلحت کے تحت اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں نے ویٹو کرکے مسترد کردیا تھا اس موقف کو جے یو آئی اکیلے لے کر آگے بڑی تھی، آج اس بیانیہ کو دوبارہ رہبر کمیٹی میں رکھا جائے گا اور ہمیں توقع ہیں کہ متحدہ اپوزیشن اس بار اتحاد کا ثبوت دے گی، انہوں نے کہا کہ سینٹ کے حوالے سے جو نتائج آئے ہیں وہ نہ خلاف توقع ہیں اور نہ اس سے ہمیں مایوسی ہوئی ہے، تمام تر دباؤ اور ہتھکنڈوں کے باوجود تحریک عدم اعتماد کے حق میں 55ووٹ ڈالے گئے لیکن 5ووٹ مسترد کئے گئے صادق سنجرانی نے 45ووٹ لے کر اکثریت حاصل نہیں کرسکے، اگرچہ ٹیکنیکی طور پر 53ووٹ لینے تھے لیکن اسے جس طرح روکا گیا اس کی مزید تفصیلات بھی عوام کے سامنے آئیں گی ، انہوں نے کہا کہ ہر پارٹی اس حوالے سے اپنے سینیٹرز کا احتساب کرے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کرے، انہوں نے کہا کہ پچھلے سال انتخابات میں فارم 45نے کرشمہ دکھایا تھا اب چیئرمین سینٹ کو 45ووٹوں سے ہی بچایا گیا ہے، یکم اگست کو 14سینیٹرز کے ساتھ جوکیا گیا وہ 14اگست کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، سینٹ کے انتخابات میںاپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اداروں پرلگائے جانے والے الزامات کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو پیاز کھائے گا اس کے منہ سے بو آئے گی اگر ادارے آئین سے بالاتر مداخلت کریں گے تو ظاہر ہے ان کا نام بھی لیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ جن سینیٹرز نے اپنے ضمیر کا سودا کیا ان کی نشاندہی ہر پارٹی کرے گی لیکن جنہوں نے ان کو استعمال کیا ان کی نشاندہی ہوچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں