تاجر تنظیمات کی مشاورت کے بغیر تیار کردہ فکس ٹیکس اسکیم کے مسودہ کو مسترد کرتے ہیں ،صدر مرکزی تنظیم تاجران

تاجر تنظیمات کی مشاورت کے بغیر تیار کردہ فکس ٹیکس اسکیم کے مسودہ کو مسترد کرتے ہیں ،صدر مرکزی تنظیم تاجران

کوئٹہ (زیبائے پاکستان آئی این پی)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے نے تاجر نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر تنظیمات کی مشاورت کے بغیر تیار کردہ فکس ٹیکس اسکیم کے مسودہ کو مسترد کرتے ہیں ،یہ مسودہ تاجروں کو تقسیم کرنے کی سازش ہے ،ایف بی آر کے مسودہ فکس ٹیکس اسکیم میں صرف 300 مربع فٹ تک کی دکانوں کو شامل کیاہے اور اس میں لگایا گیا فکس ٹیکس کا ریٹ بہت زیادہ ہونے کے ساتھ انکو اپنی ٹرن اوور پر 2 فیصد ٹیکس دینے کاکہا گیا ھے ،جو ناقابل قبول اور ناقابل عمل ہے،جبکہ 300 فٹ سے ایک ہزار مربع فٹ کے تاجروں کیلئے انکی ٹرن اوور پر دو فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے ، ایک ہزار مربع فٹ سے زیادہ کے تمام تاجروں کو سیلز ٹیکس میں زبردستی رجسٹر کیا جا رھا ھے،جبکہ کم تعلیم یافتہ ھونے اور کم آمدن ھونے کی وجہ سے تاجروں کیلئے کھاتے اور حساب رکھنا ممکن نہیں ،انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے کہا کہ ملکی معیشت کے استحکام اور تاجر برادری کے مسئلے میں ذاتی دلچسپی لیتے ھوئے حقیقی تاجر نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر ملک بھر کی تمام چھوٹی اور بڑی سب دکانوں پر رقبے کے اعتبار سے نہیں بلکہ کاروباروں کے حجم کے اعتبار سے مناسب شرح کے ساتھ فکس ٹیکس لگایا جائے ،ریٹیلرز کیلئے سیلز ٹیکس رجسٹریشن،وود ھولڈنگ ایجنٹ بننے اور شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کیا جائے، آڑھتیوں ،ھول سیلرز کی سابقہ لائسنس فیسوں کو بحال ،ٹرن اوور ٹیکس ختم کیا جائے ،جبکہ سیلز ٹیکس کو مرحلہ وار ھر سطح پر نافذ کر کے کرپشن اور چوری کا نیا راستہ کھولنے کی بجائے صرف سورس مینوفکچرنگ اور امپورٹ پر نافذ کیا جائے،اور وھاں اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کا یقینی خاتمہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ محسوس ایسا ھوتا ھے کہ ایف بی آر جان بوجھ کر فکس ٹیکس اسکیم کو ناکام کرنا چاھتا ھے تاکہ انکی کرپشن اور بلیک میلنگ کا راستہ کھلا رھے ،ملک بھر کے تاجر ٹیکس دینا چاھتے ھیں مگر بغیر مشاورت ناقابل عمل اسکیم لانے سے مسائل حل ھونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گے اس لیے حکومت صحیح سمت میں مشاورت سے قابل عمل اسکیم کا اعلان کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں