پاکستان میں کورونا کا پانچواں کیس، گلگت کی خاتون میں وائرس کی تصدیق، تعداد پانچ ہوگئی

0

گلگت/ اسلام آباد (این این آئی)کراچی اور اسلام آباد کے بعد گلگت بلتستان سے بھی کورونا وائرس کا ایک کیس سامنے آگیا جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ملک میں کراچی اور اسلام آباد سے کورونا وائرس کے  2،2  کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے اور متاثرہ افراد زیر علاج ہیں تاہم اب معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے گلگت سے پانچویں کورونا وائرس کے کیس کی تصدیق کردی ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق پانچویں مریض کا تعلق وفاقی علاقے سے ہے، مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کا علاج ہو رہا ہے۔این آئی ایچ کے مطابق گلگت کی رہائشی 45 سالہ خاتون میں کورونا وائرس پایا گیا جو چند روز پہلے ایران سیآئی تھیں،  خاتون کیاہلخانہ کے بھی کورونا وائرس کے متعلق ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔گزشتہ کیسز کے حوالے سے معاون خصوصی نے بتایا کہ مریض صحتیاب ہورہے ہیں جن میں سے ایک مریض کو جلد ہی ہسپتال سے فارغ کردیا جائیگا۔hدھر صحت حکام کے مطابق گلگت بلتستان کے محکمہ صحت کے پاس وائرس کا ٹیسٹ کرنے کی سہولیات میسر نہیں اس لیے کورونا وائرس کے 12 مشتبہ مریضوں کے نمونے تشخیص کیلئے قومی ادارہ صحت اسلام آباد بھجوائے گئے ۔قبل ازیں حکومت گلگت بلتستان نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی پیشگی احتیاطی تدبیر کے طور پر سرکاری و نجی تعلیمی ادارے 7 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔دریں اثنا افغانستان میں کورونا وائرس کا کیس سامنے آنے پر بلوچستان کے علاقے چمن میں پاک افغان سرحد 7 روز کیلئے بند کردی گئی تھی جس کے بعد سرحد پر تمام تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے کے ساتھ امیگریشن، کسٹم، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ دفاتر بند کردئیے گئے تھے تاہم سرحدی گزرگاہ کی بندش سے ناواقف افراد کی بڑی تعداد گزشتہ روز سرحد کے دونوں اطراف چمن اور ویش میں جمع ہوئی تاہم کسی کو بھی بابِ دوستی کے قریب نہیں آنے دیا گیا۔سرحد پر پہنچنے والے افراد میں خواتین اور بچوں سمیت افغان مریض بھی شامل تھے جو پاکستانی ہسپتالوں میں علاج کے لیے سرحد پار کرنا چاہتے تھے تاہم انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔اس ضمن میں ایک سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ہم وزارت داخلہ کی جانب سے افغانستان کے ساتھ موجود سرحد کی بندش کے احکامات پر سختی سے عمل پیرا ہیں اور کسی کو بھی پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ افغانستان کو بھی آگاہ کردیا گیا تھا کہ 9 مارچ تک پاک-افغان سرحد پر کوئی سرگرمی نہیں ہوگی۔محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈاکٹرز اور عہدیدار سرحد پر موجود ہیں جنہوں نے گزشتہ ہفتے سرحد پار کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے تقریباً 10 ہزار افراد کا کورونا وائرس کے لیے اسکرین ٹیسٹ کیا تاہم ’کوئی بھی متاثر نہیں پایا گیا۔صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے کہا کہ چمن اور قلعہ عبداللہ میں صورتحال سے نمٹنے کیلئے آئیسولیشن سینٹرز قائم کردیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے  بعد سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے حفاظتی اقدامات سخت کردئیے ہیں۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔ماہرین کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہی ہے اور اس سے ابھی تک اموات کافی حد تک کم ہیں۔ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.