کوئٹہ،بلوچستان اسمبلی میںحکومت پاکستان کو ریکوڈک کیس میں پانچ ارب سے زائد جرمانہ عائد کرنے سے متعلق تحریک التواء منظور

کوئٹہ،بلوچستان اسمبلی میںحکومت پاکستان کو ریکوڈک کیس میں پانچ ارب سے زائد جرمانہ عائد کرنے سے متعلق تحریک التواء منظور

کوئٹہ(زیبائے پاکستان آن لائن)بلوچستان اسمبلی میں حکومت پاکستان کو عالمی بینک کے سرمایہ کاری سے متعلق ثالثی ٹربیونل کی جانب سے ریکوڈک کیس میں پانچ ارب سے زائد جرمانہ عائد کرنے سے متعلق تحریک التواء منظور کر لی گئی اور بلوچستان کے اراکین اسمبلی کے فیملی ممبرز کیلئے آفیشل پاسپورٹ کے اجراء سے متعلق قرار داد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی گئی بلوچستان اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں اپوزیشن رکن ثناء بلوچ نے تحریک التواء نمبر ایک پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو عالمی بینک کے سرمایہ کاری سے متعلق ثالثی ٹربیونل کی جانب سے ریکوڈک کیس میں پانچ ارب 97کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا جس سے نہ صرف عالمی سطح پر ملک کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ اس سے بلوچستان کی معیشت اور مستقبل قریب میں قدرتی وسائل اور صوبے میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے لہٰذا اس تحریک التواء کو منظور کیا جائے

ثناء بلوچ نے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین کا مشکور ہیں کہ انہوں نے تحریک کی حمایت کی بعد میں اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے تحریک التوا ء کو پانچ اگست بحث کیلئے منظور کر لیاگیا جبکہ اسپیکرنے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نصر اللہ زیرے کے تحریک التواء نمبر دو کو اگلے اجلاس کے لئے ملتوی کیا پارلیمانی سیکرٹری برائے کیو ڈی اے بشریٰ رند نے ایوان میں وفاقی حکومت سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینیٹ و قومی اسمبلی کے اراکین کی طرز پر بلوچستان اسمبلی کے فیملی ممبرز کیلئے بھی آفیشل پاسپورٹس کے اجراء کو یقینی بنا یا جائے قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کر لی اجلاس سے اپوزیشن رکن اخترحسین لانگو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے انجینئرز کا معاملہ ڈھائی سال سے حل نہیں ہورہا پچھلے اسمبلی میں بھی ان پر بحث کی گئی مگر حکومت کی جانب سے اب تک کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی انجینئروں کی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی چیمبر میں ملاقات کی اور وزیر اعلیٰ نے محکموں کو لیٹر لکھ دیا 20دن سے انجینئرز ہڑتال پر ہیں حکومت نے غیر جمہوری رویہ اپنا یا ہے سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اب تک کمیٹی نہیں بنائی گئی انہوں نے کہا کہ وصوبائی وزراء پر مشتمل کمیٹی نے انجینئروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اس سے قبل اساتذہ ہڑتال پرتھے اب میڈیکل طلباء فارماسسٹس اور پبلک سروس کمیشن کے امتحانات دینے والے طلباء کو گرفتار کیاگیا لیویز کی تھانوں میں پولیس کی مداخلت کی گئی ان تمام تر مسائل کے حل کیلئے حکومت کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا اپوزیشن رکن سیدفضل آغا نے کہا کہ انجینئرز ایک بہت بڑی کمیونٹی ہے

جب تک لوگ ہڑتال نہیں کرے سڑکیں بند نہ ہو تو حکومت ان کے مسائل حل نہیں کرتے ان کا جائز مسئلہ ہے فوری طور پر حل کیا جائے بلوچستان پہلے ہی پسماندہ صوبہ ہے باقی صوبے کے برابر مراعات دی جائے لورالائی یونیورسٹی میں اربوں روپے خرچ کئے گئے مگر نان پروفیشنل شخص کو بٹھا یا گیا ہے جس نے یونیورسٹی کا بیڑا غرق کردیا اپوزیشن رکن ثناء بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت کی نااہلی اور بے حسی کی وجہ سے بلوچستان کی ترقی وخوشحالی میں جدت نہیں ہے حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے جوبے روزگار ہیں ان کو روزگارنہیں دیا جارہا اور جو روزگار پر ہیں ان کو بے روزگار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے خیبر پختونخوا کے تین آزاد اراکان باپ پارٹی میں شامل ہوگئے اب خیبر پختونخوا میں یہاں جیسی حالت ہوگی خیبر پختونخوا حکومت نے 75ہزار اسامیوں پیدا کئے ہمارے ہاں فارماسسٹس ،میڈیکل طلباء،انجینئرز احتجا ج پر ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ہم سب کا گھر ہے یہاں پانی کا شدید بحران ہے ٹینکر مافیاں کا راج ہے امن وامان کی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے پی ایس ڈی پی عملدرآمد نہیں ہوا اور آنے والی پی ایس ڈی پی بھی لیپس ہوجائے گی ڈھائی ارب روپے پڑے ہیں مگر اب تک ایک بھی شعبے میں بہتری نہیں آئی ہے

ہم حکومت میں آنا نہیں چاہتے اپوزیشن میں رہ کر مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہرمعاملے پر مگر حکومت بھی دلچسپی دکھائے نصر اللہ زیرے نے کہا کہ صوبائی میں صورتحال گھمبیر ہوتی جارہی ہے درجن سے زائد کیمپ لگے ہوئے ہیں کوئٹہ شہر کیمپوں میں تبدیل ہوگیا لیویز کا مسئلہ گھمبیر ہوتا جارہا ہے قائد ایوان نے وعدہ کیاتھا کہ لیویز فورس کو ختم نہیں کیا جائے گا اور اسمبلی کی توہین کی گئی آئی جی پولیس نے ایک لیٹر لکھ کر لیویز تھانوں کوپولیس تھانوں میں تبدیل کیا اپوزیشن رکن انجینئر یونس عزیز زہری نے کہا کہ صوبائی وزراء انجینئر زمرک خان اچکزئی،ظہو ر بلیدی اور عارف محمد حسنی انجینئروں کے مسئلے کو حل کرے اگر حکومت کو انجینئرز کے جیکٹ سے نفرت ہے تو نفرت نہ کرے صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ جذباتی تقاریر اور جیکٹ پہننے سے مسائل حل نہیں ہونگے انجینئرز کا مسئلہ آج کا نہیں سابقہ حکومت سے چلی آرہی ہے اس حوالے سے پچھلے حکومت میں قرارداد پیش کی گئی ہماری کوشش ہے کہ ڈاکٹروں، انجینئروں سمیت تمام طبقات کے مسائل کو حل کیا جائے احتجا ج کرنا ہر کسی کا جمہوری حق ہے ہم نے اساتذہ کے مطالبات تسلیم کئے انجینئروں کے بھی مسائل حل کئے وہ بھی کچھ اپنے لئے آسانیاں پیدا کرے ہم انے کے ساتھ ہیں اور ان کا ہر مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں

صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کہا کہ حکومت ہر کسی کے جائز مطالبات حل کرنے کیلئے تیار ہے اپوزیشن اور انجینئرز کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہونگے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دی گئی اس کے علاوہ میڈیکل طلباء اور فارماسسٹس کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی ہے ان کے مسائل کو بھی حل کرینگے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم عوام کے مسائل کو حل کرے صوبائی وزیر انجینئرزمرک خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن تسلی رکھے انجینئروں کے تمام مسائل حل کئے گئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں