لاہور ہائیکورٹ نے گھی کی سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے گھی کی سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد روک دیا

لاہور:  لاہور ہائیکورٹ نے گھی کی سرکاری قیمتیں مقرر کرنے کے احکامات پر عمل درآمد روکتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ منگل کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے 25 گھی ملز مالکان کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ ابو ذر سلیمان نیازی نے دلائل دئیے، درخواستوں میں گھی کی سرکاری قیمت مقرر کرنے کے اقدامام کو چیلنج کیا گیا۔درخواست گزار گھی کمپنیوں کے وکیل ابو ذر سلمان نیازی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے گھی ملز مالکان سے مشاورت کے بغیر ہی گھی کی قیمتوں کے تعین کر کے سرکاری نوٹفکیشن جاری کر دیا، حکومتی نوٹفکیشن بدنیتی پر مبنی ہے۔ابو ذر سلیمان نیازی نے نشاندہی کی کہ حکومت نے مینوفیکچرنگ کے اخراجات کا تخمینہ لگائے بغیر ہی گھی کی قیمتوں کے تعین کا نوٹفکیشن جاری کیا اور حکومتی طے کردہ نرخ کے مطابق گھی فروخت ہونے سے ملز مالکان کو شدید نقصان ہوگا۔ وکیل نے استدعا کی کہ حکومتی نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت نے ابوذر سلیمانی نیازی ایڈووکیٹ کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے گھی کے سرکاری نرخ مقرر کرنے کے نوٹفکیشن پر عمل درآمد روکتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں