ماحول کی آلودگی سے متعلق کیس ،سلام آباد کا مئیر یہاں کم لندن میں زیادہ ہوتا ، سپریم کورٹ کابرہمی کااظہار

0

 اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد آئی نائن انڈسٹریل ایریا میں ماحول کی آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دور ان سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اسلام آباد کا مئیر یہاں کم لندن میں زیادہ ہوتا ، ہم ایک حکم نامہ جاری کریں گے اور سی ڈی اے ختم ہو جائیگا ، ہم نے ایک طرف کے پی کے ملا لیا اور دوسری طرف لاہور جا رہے ہیں، ہم آئی سی ٹی اور سی ڈی اے کو ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، اسلام آباد میں اسٹیل مل کی صنعت لگنا میری سمجھ سے باہر ہے، اگر اسلام آباد کے ماسٹر پلان کو بدلنے کی اجازت دی تو ایک ہفتے میں مارگلہ کی پہاڑیاں غائب ہوجائیں گی،اگر قانون کی پاسداری نہیں ہوگی تو ہمیں مداخلت کرنا پڑے گی۔ بدھ کو اسلام آباد آئی نائن انڈسٹریل ایریا میں ماحول کی آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ شہر کے درمیان میں آپکا انڈسٹریل ایریا آگیا، اسلام آباد سٹی کے اندر انڈسٹریل زون بنانے کی اجازت کس نے دی۔وکیل نے جواب دیاکہ یہ ماسٹر پلان کا حصہ تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ میں نے سنا ہے اسلام آباد اور کینبرا ایل ساتھ ڈیزائن ہوئے، کینبرا جس ڈیزائن سے بنا وہی موجود ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے ایک طرف کے پی کے ملا لیا اور دوسری طرف لاہور جا رہے ہیں، ہم آئی سی ٹی اور سی ڈی اے کو ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔چیف جسٹس نے کہاکہ جو انڈسٹریل ایریا میں بفر زون تھا اسے ختم کر دیا گیا، اس بفر زون میں رہنے والے کون ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ گرین بیلٹ بھی ختم ہو گئی ہیں، انڈسٹری کے ریگولیٹر کہاں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ انڈسٹری کی نمائندگی کون کر رہا ہے۔ دور ان سماعت اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا نمائندہ عدالت میں پیش ہوا ۔ نمائندہ چیمبر آف کامرس نے کہاکہ ہم نے سی ڈی اے کو نئے انڈسٹریل زون سے متعلق بار بار درخواست دی ہے، آئی سترہ میں سی ڈی اے انڈسٹریل ایریا بنانے جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دس سال بعد آئی سترہ بھی شہر کے درمیان آجائے گا، ٹیکسٹائل طرز کی انڈسٹری چاہے اسلام آباد میں بنا لیں لیکن اسٹیل کی فیکٹریاں گوجرانوالہ یا پشاور لیجائیں۔ دور ان سماعت ڈی جی ماحولیاتی تحفظ فرزانہ الطاف عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کا ادارہ بھی کام نہیں کر رہا ہے، آپ کے انسپکٹر بھی جا کر اپنا ہاتھ گرم کر کے اجاتے ہونگے۔ ڈی جی ماحولیات نے کہاکہ ہمارے ادارے کے پاس تو ایک انسپکٹر تک نہیں، پندرہ نومبر 2018 کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کرا رہے ہیں۔ڈی جی ماحولیات نے کہاکہ اسلام آباد میں انڈسٹری کی جگہ وئر ہائوسسز بن رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہماری پوری قوم ہی دوکاندار بن گئی ہے، سب دوکانوں میں سمگلنگ اور باہر کا مال بھج رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ پورے ملک میں دوکانیں ہی دوکانیں نظر ارہی ہیں، صنعت کار بیوپاری بن گئے ہیں، ہمارا ملک میں لارنس پور میں دنیا کا بہترین اون کا کپڑا بنتا تھا جو بند ہوگیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہمارے پاس ہاتھ سے کام کرنے والے قابل لوگ تھے پتہ نہیں ان کا کیا بنا، نہیں چاہتے کہ صنعتیں بند ہو جائیں، قانون پر مکمل عملدرآمد کرائیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ اسلام آباد میں اسٹیل مل کی صنعت لگنا میری سمجھ سے باہر ہے، اگر اسلام آباد کے ماسٹر پلان کو بدلنے کی اجازت دی تو ایک ہفتے میں مارگلہ کی پہاڑیاں غائب ہوجائیں گی۔چیف جسٹس نے کہاکہ بلیو ایریا میں ہر جگہ کوڑا کرکٹ نظر آتا ہے، اسلام آباد کا مئیر یہاں کم لندن میں زیادہ ہوتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز ایک ٹی وی پرگرام میں مئیر کا پورا ہفتے کا شیڈول بتا دیا تھا، اسلام آباد میں سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بنائیں یہ کیا انڈسٹری بنائی ہوئی ہے، آئی نائن انڈسٹریل ایریا کا کر دیکھیں سڑکیں ہی نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ انڈسٹریل ایریا یہاں سے ہٹانا پڑے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سی ڈی نے ایک بار دے دیا تو کیا بات ختم ہوگئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ اسلام آباد میں سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بنائیں یہ کیا انڈسٹری بنائی ہوئی ہے، آئی نائن انڈسٹریل ایریا جا کر دیکھیں سڑکیں ہی نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ انڈسٹریل ایریا یہاں سے ہٹانا پڑے گا، بلیو ایریا جائیں وہاں آپ کو کوڑا پڑا ملے گا۔چیف جسٹس نے کہاکہ میں اکثر وہاں جاتا ہوں تو وہاں خوشبوئیں ملتی ہیں۔ چیف جسٹس نے ڈی جی ای پی اے سے مکالمہ کیا کہ 4 فیکٹریوں کی حد تک آپ نے کام کرلیا اب پورے اسلام آباد کا کیا کرنا ہے۔ ڈی جی ای پی اے نے کہا کہ ہمارے پاس فورس نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہمارے احکامات کو پامال کرتے ہوئے سی ڈی اے نے پتا نہیں کیا کچھ کیا ہے، سی ڈی اے کو اندازہ نہیں ہے کہ وہ کس چیز سے کھیل رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدلیہ ریاست کا تیسرا ستون ہے، سی ڈی اے ریاست میں ایک چھوٹی سی مچھلی کی طرح ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم ایک حکم نامہ جاری کریں گے اور سی ڈی اے آج ہی ختم ہوجائے گا، سی ڈی اے کے سب ملازمین آج ہی فارغ ہوجائیں گے پھر جو کرنا ہو کرلیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ لوگوں نے کام میں مفاد پرستی سے کام لیا ہے جو کام کرتا ہے اس کام نہیں کرنے دیتے ڈرا کر رکھتے ہیں، اگر قانون کی پاسداری نہیں ہوگی تو ہمیں مداخلت کرنا پڑے گی۔چیف جسٹس نے کہاکہ جو افسران کام نہیں کرتے قوم کو ان کو ضرورت نہیں ہے، کام نہ کرنے والے افسران کو فارغ کردیں گے۔ عدالت نے مئیر اسلام اور چیرمین سی ڈی اے کو طلب کرلیا، عدالت نے کہاکہ چیمبر آف کامرس کا نمائندہ اور ڈی جی ای پی اے آلودگی کے خاتمے سے متعلق مشترکہ رپورٹ جمع کروائیں۔بعد ازاں کیس کی سماعت (آج) منگل تک ملتوی کر دی گئی

Leave A Reply

Your email address will not be published.