آصف زرداری کی درخواست ضمانت، اسلام آباد ہائیکورٹ کا ذاتی معالج پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

آصف زرداری کی درخواست ضمانت، اسلام آباد ہائیکورٹ کا ذاتی معالج پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

اسلام آباد:  اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف علی زرداری کی درخواست ضمانت پر سابق صدر کے ذاتی معالج پر مشتمل خصوصی میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی سپیشل بینچ نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آصف زرداری کا کوئی میڈیکل بورڈ بنا، کیا کوئی تازہ رپورٹ ہے۔وکیل استغاثہ فاروق ایچ نائیک نے بینچ کو آگاہ کیا کہ پنجاب حکومت کہ جانب سے میڈیکل بورڈ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے عدالت کا آگاہ کیا کہ آصف زرداری کو دل کا مرض لاحق ہے۔وکیل فاروق ایچ نائیک کے ذریعے دائر الگ الگ درخواستوں میں وفاق اور نیب کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ نیب کی جانب سے فراڈ کے الزام میں گرفتاری کو 5 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن نیب کچھ ثابت نہ کرسکا اور درخواست گزار کو جیل حکام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔آصف زرداری سے متعلق کہا گیا درخواستگزار مختلف قسم کی بیماریوں کے شکار ہیں اور انہیں 24 گھنٹے طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ استدعا ہے کہ عدالت طبی حالات کی سنگینی کے پیش نظر درخواست ضمانت منظور کرے۔فریال تالپور کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ ایک سپیشل بچی کی ماں ہیں اور اس کی دیکھ بھال کیلئے ضمانت پر رہائی کی منظوری دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا پمز کے ہیڈ کو ہدایت کر دیتے ہیں کہ میڈیکل بورڈ بنا کر رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔واضح رہے کہ آصف زرداری کی طرف سے 2 جبکہ فریال تالپور کی طرف سے ایک ریفرنس میں ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواستیں دی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں