اربوں کی جائیدادوں کے باوجود وفاقی حکومت کے مختلف ادارے اربوں روپے کا سالانہ خسارہ اٹھا رہے ہیں، وزیرِ اعظم

اربوں کی جائیدادوں کے باوجود وفاقی حکومت کے مختلف ادارے اربوں روپے کا سالانہ خسارہ اٹھا رہے ہیں، وزیرِ اعظم

اسلام آباد:  وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اربوں کی جائیدادوں کے باوجود وفاقی حکومت کے مختلف ادارے اربوں روپے کا سالانہ خسارہ اٹھا رہے ہیں، ماضی میں ان بیش قیمت جائیدادوں کو استعمال میں نہ لاکر مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیا گیا، غیر استعمال شدہ املاک کی نشاندہی نہ کرنے والے سرکاری افسران و ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بدھ کو وزیرِاعظم عمران کی زیر صدارت مختلف وزراتوں اور وفاقی حکومت کے اداروں کی غیر استعمال شدہ املاک کو مثبت طور سے برے کار لانے کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی، وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، معاونِ خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذاولفقار عباس بخاری، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ترجمان وزیرِ اعظم ندیم افضل چن، وفاقی سیکرٹری صاحبان، وفاقی اور صوبائی سینئر افسران شریک ہو ئے ۔ اجلاس میں سیکرٹری نجکاری رضوان ملک نے مختلف وزاتوں اور وفاقی حکومت کے محکموں کے اداروں کی متعدد املاک کو مثبت طریقے سے برے کار لانے اور ان کی ممکنہ نجکاری کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے فروری اور مارچ میں لیے جانے والے فیصلوں کی روشنی میں ہر وزارت کو کم از کم تین املاک کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں مختلف وزارتوں کی جانب سے اب تک 32املاک کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشاندہی کی جانے والی املاک کا تخمینہ لگانے کے لئے اور ان جائیدادوں کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کے لئے فنانشل ایڈوائزر کی خدمات اکتوبر کے آخر میں حاصل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان املاک کی مارکیٹنگ دبئی ایکسپو میں کی جائے گی تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں کی توجہ ان بیش بہا اثاثوں کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سالہا سال سے غیر استعمال شدہ اربوں کی جائیدادوں کو مثبت طریقے سے برے کار لانا اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عوام کی فلاح و بہبود اور سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں جیسی بنیادی سہولتوں کی بہتری کے لئے استعمال کرنا موجودہ حکومت کی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں کی جائیدادوں کے باوجود وفاقی حکومت کے مختلف ادارے اربوں روپے کا سالانہ خسارہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ان بیش قیمت جائیدادوں کو استعمال میں نہ لاکر مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ غیر استعمال شدہ املاک کی نشاندہی نہ کرنے والے یا ان کو مثبت طریقے سے برے کار لانے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے سرکاری افسران و ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیرِ اعظم نے ایسٹ منیجمنٹ کمیٹی ، متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ نشاندہی کی جانے والی املاک سے متعلقہ تمام امور کو آئندہ ایک ہفتے میں حل کیا جائے تاکہ ان املاک کو مثبت طریقے سے برے کار لانے کے فیصلے پر عمل درآمد مکمل کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں