سیکرٹری خوراک بلوچستان نوراحمد پرکانی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے میڈیا پر ان کے اور محکمہ خوراک اور نیب سے متعلق چلنے والے خبر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا

0

کوئٹہ  :۔سیکرٹری خوراک بلوچستان نوراحمد پرکانی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے میڈیا پر ان کے اور محکمہ خوراک اور نیب سے متعلق چلنے والے خبر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا سیکریٹری فوڈ نےفوڈ پالیسی 2017 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیب کی prevention کمیٹی کی سفارشات پر حکومت بلوچستان نے جاری کی ہے اس Prevention کمیٹی میں نیب کے علاوہ محکمہ فنانس ، محکمہ قانون ، محکمہ فوڈ بلوچستان کے نمائندے بھی شامل تھے اور یہ بھی وضاحت کی ھےکہ یہ نیب پریوینشن کمیٹی کی سفارشات 2017 انکے ہی دستخطوں سے جاری ہو ئے تھے۔ جب وہ اس وقت خود بطور سیکریٹری فوڈ تعنیات تھے تاکہ محکمہ خوراک کے تمام برانچز، گوداموں اور خریداری کو شفاف طریقے سے چلایا جائے۔ مزید یہ کہ نیب سفارشات پر عدالت عالیہ نے سختی سے عمل درآمد کرنے کے احکامات دئیے ہیں تاکہ گندم کی خریداری میں مڈل مین کے کردار کو ختم کیا جائے البتہ COVID19 , لاک ڈاون, دفاتر کی بندش اور دوسرے عوامل کی وجہ سے زمیندار مطالبہ کر رہے ہیں کہ فرد کی شرط ختم± کی جائے اور اسی وجہ سے زمیندار پاسکو کو ہی اپنا گندم دے رہے ہیں ۔ میڈیا سے درخواست ہے خبریں چلاتے وقت سنسنی نہ پھیلایا جائے بلکہ حقائق کا ادراک کر کے خبر بنایا جائے تاکہ پبلک کی مفاد کے خلاف کوئی کام نہ ہو اور جو فوڈ مافیا ان پالیسیوں/ سفارشات کے خلاف ہے اور سر اٹھانے کی کوشش کر رہی ایسی عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔اصل میں مارکیٹ میں گندم کی فی من نرخ زیادہ ہونے کی وجہ سے ھی زمیندار اپنی اسٹاک پرائیویٹ مارکیٹ میں بیچنا ہا چاھتے ھیں اور حق ملکیت کو بھانہ کے طور پر بھی استعمال کیا جا رھا± ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بطور سیکریٹری فوڈ انہوں نے 2017 میں ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم خریداری کروائی تھی اس وقت بھی انہوں نے روینیو ریکارڈ کے مطابق باردانہ تقسیم کرکے گندم خریدی تھی جو کہ پوری اسٹاک کو گوداموں تک پہنچا یا تھا اور ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے اس گندم کی اسٹاک کی معیار اور مقدار کو چیک کرکے سرٹیفکیٹ دئیے تھے بعد میں اس گندم کو بحفاظت فوڈ پالیسی کے تحت فلور ملوں جاری کیا گیا تھا اور بلوچستان فوڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک کلو گندم نہ کم ہوا نہ خراب ہوا اور نہ ھی چوری ہوئی۔ اب بھی وہ اسی پالیسی پر کار فرما ئیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور ڈائریکٹر فوڈ اور سیکریٹری فوڈ پھلے بھی تعنیات رہے ہیںاور اپنے تعیناتی کے دوران فوڈ مافیا اور کرپٹ عناصر کی سرکوبی کرتے رہے ہیں اور فوڈ مافیا کی کردار کو کافی حد تک کم کروایا اور درجنوں کیسز نیب اور انٹی کرپشن میں داخل کروائے اور آج کسی کرپٹ عنصر کی جرات نہیں کہ فوڈ کی گوداموں میں داخل ہو سکے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ± فوڈ مافیا کے لوگ حق ملکیت کی کاغذات کی آڑ میں زمینداروں کو گمراہ کرکے خریداری مہم کو ناکام بنانا چائیے ہیں جو کسی صورت ہونے نہیں دیا جائے گا اور مافیا کے لوگ اپنے پس پردہ مقاصد حاصل کرنا چاھتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا ھے کہ منسٹر خوراک سردار عبدالرحمان کھیتران ،حکومت بلوچستان کے اعلیٰ حکام اور نیب بلوچستان قدم قدم پر انکی رہنما ئی کر رہے ہیں تاکہ یہ اہم قومی ٹاسک فوڈ پالیسی اور نیب پریوینشن کمیٹی کی سفارشات کے تحت شفاف طریقے سے انجام پائے۔اور گندم خریداری کا حدف پورا کیا جائے۔ تاکہ عوام کے لئے گندم زخیرہ کیا جا سکے اور کوئی بحران پیدا نہ ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.