عدالتی فیصلوں پر عمل کرنا حکومتی ترجیحات میں ہی شامل نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

0

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں لگتا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل کرنا حکومتی ترجیحات میں ہی شامل نہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ تاہم وفاقی سیکریٹریز کے نمائندہ افسران پیش نہ ہوئے۔

ہائی کورٹ نے وفاقی سیکریٹریز کے نمائندوں کی عدم پیشی پر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان، سیکرٹری ماحولیات اور چئیرمین سی ڈی اے عامر علی احمد کو آئندہ ہفتے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے عدالتی فیصلے پر عمل کرنا حکومتی ترجیحات میں ہی شامل نہیں، وفاقی حکومت اور سی ڈی اے کا ماحول کو صاف رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں، امیروں اور مخصوص لوگوں کے لیے کام ہوتا رہتا ہے، عام عوام کے لیے کچھ نہیں، عام آدمی مر بھی رہا ہو تو سمجھا جاتا ہے خیر ہے۔

چیف جسٹس نے نمائندہ سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ سی ڈی اے نے وائلڈ لائف کے لئے مختص پناہ گاہیں کیوں ختم کردیں؟ آپ نے اللہ کو جواب نہیں دینا ؟ ماسٹر پلان میں کمزور طبقے کے لیے کونسا سیکٹر بنا؟ جس مزدور نے اس شہر کو بنایا اس کے لیے اس شہر میں کوئی کچھ نہیں، سی ڈی اے کو پلاٹ الاٹمنٹ سے روکا تھا، بتایا جائے اب تک کتنے پلاٹ الاٹ ہوئے ؟ عدالت نے ایک کمیشن بنایا جس نے کسی سے ایک روپیہ نہیں لیا اور سفارشات تیار کیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اسد عمر خود 2015 کے کمیشن کا حصہ تھے جس نے اپنی رپورٹ تیار کی تھی ، اس پر کسی بھی وزارت نے آج تک بات ہی نہیں کی، اس ملک میں اس کی کوئی قدر ہی نہیں جو اچھا کام کرے، صرف طاقتور کے لیے کام کیا جاتا ہے، سی ڈی اے نے اسلام آباد میں لوگوں کو دربدر کردیا کمزور اور مزدور طبقے کے لیے کچھ نہیں ہوا، سی ڈی اے رپورٹ پیش کرے شہر میں سارے سیکٹرز کس کس طبقے کے لئے آباد ہوئے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے کی تک ملتوی کردی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.