بھارت کی سابقہ وزیر خارجہ سشما سوراج چل بسیں

بھارت کی سابقہ وزیر خارجہ سشما سوراج چل بسیں

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر رہنما 67 سالہ سشما سوراج کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ سشما سوراج کو دل میں تکلیف کے باعث ایمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں رکھا گیا تاہم وہ دوران علاج چل بسیں۔

سابقہ بھارتی وزیر خارجہ نے اپنی طبیعت کی ناسازی کے باعث 2019 میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سشما سوراج  کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سیاست کا ایک شاندار باب ختم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ایک ایسے رہنما سے محروم ہو گیا جس نے اپنی زندگی عوامی خدمت اور غریب عوام کے لیے وقف کر دی تھی۔

سشما سوراج 14 فروری 1952 کو بھارت کی ریاست ہریانہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ہریانہ میں ہی حاصل کی جبکہ چندی گڑھ میں واقع پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1973 میں وہ بھارتی سپریم کورٹ میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہوئیں۔

وہ نریندر مودی کے گزشتہ دور حکومت میں 5 سال تک وزیر خارجہ رہیں۔

سشما سوراج کو بھارت میں اندرا گاندھی کے بعد دوسری خاتون وزیر خارجہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ 7 مرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہوئیں جبکہ 1977 میں 25 سال کی عمر میں سشما سوراج ہریانہ کی تاریخ میں سب سے کمسن وزیر بنیں۔ اس کے علاوہ سشما سوراج دہلی کی وزیر اعلیٰ بھی رہ چکی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں