کوئٹہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265پر دائر انتخابی عذداری کی سماعت، نادرا رپورٹ پر اعتراضات جمع نہ کرنے پر الیکشن ٹریبونل کا اظہار برہمی

کوئٹہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265پر دائر انتخابی عذداری کی سماعت، نادرا رپورٹ پر اعتراضات جمع نہ کرنے پر الیکشن ٹریبونل کا اظہار برہمی

کوئٹہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265پر دائر انتخابی عذداری کی سماعت، نادرا رپورٹ پر اعتراضات جمع نہ کرنے پر الیکشن ٹریبونل کا اظہار برہمی، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل ٹریبونل نے قاسم سوری کے وکیل کو ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئندہ پیشی پر نادرا رپورٹ پر اعتراضات جمع نہ کرنے کی صورت میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو معطل کیا جا سکتا ہے۔ ہفتہ کے روز بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عبداللہ بلوچ پرمشتمل الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265کوئٹہII پرڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی کامیابی کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماوسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی کی جانب سے دائر انتخابی عذرداری کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نوابزادہ میر لشکری رئیسانی ،ان کے وکیل ریاض احمد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ دوران سماعت ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کے وکیل نے عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ قاسم سوری نے بابر اعوا ن ایڈووکیٹ کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے جو آئندہ سماعت پر پیش ہوکر کیس کی پیروی کرینگے۔ انہوں نے عدالت سے نادرا رپورٹ پر اعتراضات جمع کرانے کیلئے مزید وقت دینے کی استدعا کی جس پر نوابزادہ لشکری رئیسانی کے وکیل ریاض احمد ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ فریقین کی جانب سے اگر بابر اعوان کو وکیل مقرر کیا گیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش ہونا چائیے تھا کیس کو زیر التوارکھنے کیلئے وقت لیا جارہا ہے۔ انہوں نے ٹریبونل سے استدعا کی کہ کیس کا فیصلہ آنے تک قاسم سوری کی بحیثیت رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے۔ دوران سماعت بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عبداللہ بلوچ نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے وکیل کامران مرتضی کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کرانے کا حکم دیا دوران سماعت جسٹس عبداللہ بلوچ نے ریمارکس دیئے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے وکیل کی جانب سے آئند ہ پیشی پر نادرا رپورٹ پر اعتراضات جمع نہ کرنے کی صورت میں قاسم سوری کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کیا جاسکتا ہے۔ بعدازیں عدالت نے انتخابی عذرداری کیس کی سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی ۔ یاد رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماوسابق سینیٹر نوابزادہ میرلشکری رئیسانی کی جانب سے حلقہ این اے 265کوئٹہ IIسے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری کی کامیابی کو چیلنج کیا گیا تھا ٹریبونل نے انتخابی عذرداری کو قابل سماعت قراردیتے ہوئے ووٹوں کی بائیومیٹرک تصدیق کا حکم دیاتھاتاہم بعدمیں نوابزادہ میرلشکری رئیسانی کی جانب سے نادرا رپورٹ میں تاخیر کے خلاف بھی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر الیکشن ٹریبونل کو نادرا حکام کو رپورٹ پیش کرنے کیلئے مزیداحکامات دینے پڑے تھے، گزشتہ دنوں نادرا حکام کی جانب سے حلقہ کے ووٹوں سے متعلق رپورٹ ٹریبونل کے روبرو پیش کی گئی تھی جس پر عدالت نے کیس کی سماعت کیلئے 2 ستمبر کی تاریخ مقرر کی تھی دوران سماعت قاسم سوری کے وکیل کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے نادرا رپورٹ پر اعتراضات جمع کرانے کیلئے عدالت سے وقت دینے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 7 ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں