چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائر فصیل اصغر نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوام کا مکمل تعاون ضروری ہے

0

کوئٹہ:۔چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائر فصیل اصغر نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوام کا مکمل تعاون ضروری ہے کیونکہ اس میں انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی سطح تک ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا وگرنہ یہ موذی مرض جو بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اس کا پھیلاوخطرناک ہو جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعے کے روز یہاں بلوچستان کمانڈو آپریشن سینٹر کی جانب سے بلوچستان یونیورسٹی کے ریسرچ اساتذہ کی تحقیق کی روشنی میں تیار کردہ رپورٹ، اس کے مضمرات اور اور وہ عملدرآمد کی ممکنات کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت دوستن جمالدین،ی بلوچستان کمانڈو آپریشن سینٹر کی جانب سے فوکل پرسن خادم حسین، اسٹنٹ کمشنر محترمہ عمیرا بلوچ سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔جبکہ بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سر وحید نور اور ڈاکٹر ثناء اللہ پانیزئی جبکہ بیٹویٹمزکے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام لودھی نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے اپنی تحقیقی رپورٹ پیش کی چیف سیکرٹری نے کہا کہ یہ امر توجہ طلب ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی یا سمارٹ لاک ڈاؤن کی صورت میں تاجر، دکاندار اور عوام کو ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ماسک کے پہننے پر سختی کی جائے اس کا اطلاق سوفیصد ہونا چاہیے جبکہ عوام کی نقل و عمل کے حوالے سے انٹرڈسٹرکٹ دیگر شہروں تک جانے پر سختی سے پابندی کرائی جائے کیونکہ جو علاقے اس وائرس کے پھیلاؤ کی زد میں نہیں آئے وہ محفوظ رہ سکیں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جو شخص کسی قسم کی بھی کرونا کی علامت اپنے اندر محسوس کرلے وہ فورا پہلے آئسیولیٹ ہوجائے اور پھر اپنے ٹیسٹ کرائے تاکہ اس وائرس کا پھیلاؤ نہ ہوسکے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جو افراد کرونا کے مرض میں مبتلا ہوکر موت پارہے ہیں ان کی موت کی وجہ جانا ضروری ہے کیونکہ بعض رونا مریض گردوں، ہارٹ اٹیک، شوگر یا کسی کی وجہ سے فوت پائے ہیں انہوں نے ریسرچ اسکالرز پروفیسر کو ہدایت دی کہ وہ چند یوم کے اندر اپنی تحقیق کے ان پہلوؤں کی رپورٹ پیش کرے جو کرونا کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مدد دیں تاکہ اس پر عمل درآمد کرایا جاسکے۔قبل ازاں ڈاکٹر وحید نور اور ڈاکٹر ثناء اللہ پانیزئی نے اپنی تحقیقی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ٹیسٹنگ صلاحیتوں میں اضافہ اور رینڈم ٹیسٹنگ ضروری ہے جبکہ بڑے شہروں کی آبادی کو زونز یا یوسیز میں تقسیم کر کے ٹیسٹ کیے جائیں تاکہ زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کو سخت خلاف ڈاؤن یا مکمل طور پر دوسرے علاقوں سے الگ کردیا جائے تاکہ اس کا پھیلاؤ زیادہ نہ ہوسکے انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی کے پہلے ہفتے اور وسط جولائی میں کرونا کیسز پیک پر پہنچ سکتے ہیں یہ وقت انتہائی احتیاط کا ہے عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے ممکن ہے کہ اس دوران 79 فیصد آبادی اس وائرس سے متاثر ہو جائے۔انہوں نے تحقیق کے مختلف طریقہ کاروں کے تحت اس وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹس بھی پیش کئے اور اس کا موازنہ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی کئے چیف سیکرٹری نے ریسرچ اسکالرز کی محنت اور کام کی تعریف کی اور اس ضمن میں بلوچستان کمانڈو آپریشن بورڈ کی کارکردگی کو بھی سراہا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.