پاکستان اپنا ہائی کمشنر بھارت نہیں بھیج رہا، کچھ کرنے سے پہلے27 فروری کو یاد رکھا جائے ،ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان اپنا ہائی کمشنر بھارت نہیں بھیج رہا، کچھ کرنے سے پہلے27 فروری کو یاد رکھا جائے ،ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آبادا(زیبائے پاکستان  آئی این پی ) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان اپنا ہائی کمشنر بھارت نہیں بھیج رہا، کرتار پور راہداری پر کام جاری رہے گا، وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے صدور کو خط لکھے ہیں، بھارت جو کرنا چاہتا ہے اس کا جواب کل پارلیمنٹ نے دے دیاہے،وزیراعظم نے تمام آپشنز استعمال کرنے کا کہا ہے ، قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے بھارت کو اگاہ کر دیا ہے ،خوف کا لفظ ہمارے لغت میں نہیں 27 فروری کو یاد رکھا جائے گا،کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک متنازع ہے،بھارت کے ساتھ جنگ کے آپشنز کونہیں دیکھ رہے ،حافظ سعید کو رہا نہیں کیا گیا،ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، ہانگ کانگ کا مسئلہ چائنہ کا اندرونی معاملہ ہے جو جلد حل ہو جائے گا، ہانگ کانگ میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔جمعرات کو میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کشمیر کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیںگے، بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہیں ، وزیر اعظم عمران خان نے تمام آپشنز استعمال کرنے کا کہا ہے ، قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے بھارت کو اگاہ کر دیا ہے ،پاکستان اپنا ہائی کمشنر بھارت نہیں بھیج رہا، بھارت نے اضافی فوج تعینات کر کے حریت رہنمائوں کو گرفتار کیا ہوا ہے،بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے قراردادوں میں موجود ہے، اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال انتہائی مخدوش ہے، اسلام آباد میں سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کومقبوضہ کشمیرکی صورتحال پربریفنگ دی گئی، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے،پاکستان، کرتار پور راہداری پر کام جاری رہے گا،کشمیر اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ مسئلہ ہے ، مقبوضہ کشمیر میں غذائی قلت کی وجہ سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے ، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے قرار داوں میں موجود ہے ، وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے صدور کو خط لکھے ہیں، کشمیری حق خود ارادیت کے حصول کیلئے 70سال سے کوشاں ہیں ،عالمی براداری بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا نوٹس لے،خوف کا لفظ ہمارے لغت میں نہیں 27 فروری کو یاد رکھا جائے گا،یو این اے سے مطالبہ کیاہے کہ بھارتی بربریت کو ختم کیا جائے ، مقبوضہ کشمیر میں فون اور انٹر نیٹ کو بند کر رکھا ہے ، بھارت جو کرنا چاہتا ہے اس کا جواب کل پارلیمنٹ نے دے دیاہے،پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیریوں کی بات سنی جائے مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تنازعہ ہے،امریکی وفد سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات چیت ہوئی ہے ، جوہونے جا رہا ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے رہی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کا راج ہے، بھارتی اقدامات سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا چین کا دورہ متوقع ہے ، پاکستان نے بھارت کے ساتھ تما م تجارتی روابط بند کر دیئے ہیں ، بھارت کے ساتھ تجارت کا افغان تجارت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،پاکستان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا ، پاکستان معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے پر غور کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی نمائندہ ایلس ویلز کے ساتھ پاک امریکہ تعلقات افغان امن و عمل اور مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی، مسئلہ کشمیر پر وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی حمایت میں سارے دوست ممالک سے ردعمل آئے گا کچھ کا آ گیا ہے،امید ہے کہ امریکہ خطے میں اپنا کردار ادا کرے گا تا کہ امن و استحکام برقرار رکھے،پاکستانی اٹارنی جنرل بھارتی اقدامات کو عالمی عدالت انصاف میں چیلنج کرنے کے حوالے سے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حافظ سعید کو رہا نہیں کیا گیا،ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، پاکستان نے اپنی فضائی حدود کو بھی اب بند نہیں کیا،تاہم ری روٹنگ جاری ہے، بھارت کے ساتھ جنگ کے آپشنز کونہیں دیکھ رہے ،چاہتے ہیں کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ کا مسئلہ چائنہ کا اندرونی معاملہ ہے جو جلد حل ہو جائے گا، ہانگ کانگ میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ (ص/ا س )

اپنا تبصرہ بھیجیں