قومی اسمبلی،مریم نواز کی گرفتار ی پر اپوزیشن کا شدید احتجاج ،بلاول بھٹو کا احتجاجاً واک آئوٹ

قومی اسمبلی،مریم نواز کی گرفتار ی پر اپوزیشن کا شدید احتجاج ،بلاول بھٹو کا احتجاجاً واک آئوٹ

اسلام آباد(زیبائے پاکستان آئی این پی)قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)کی نائب صدرمریم نواز کی گرفتار ی پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا جبکہ پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے احتجاجاً ایوان سے واک آئوٹ کیا۔مسلم لیگ (ن)کے ارکان نے سپیکر کی ڈائس کا گھیرائو کیا اور چاروں صوبوں کی آواز مریم نواز مریم نواز،کشمیر کا سوداگر نا منظور،لاٹھی گولی کی سرکار نامنظور،کشمیر بیچنے والا نامنظور کے نعرے لگائے۔پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی بات کرنے والے عمران خان آمر بن گئے،آپ اتنے بغیرت ہو کہ سیاسی مخالفین کی خواتین کو گرفتار کرتے ہوئے،لڑنا ہے تو مردوں سے لڑو،آمر ضیا ء وہ واحد شخص تھا جو سیاسی مخالفین کی عورتوں کے پیچھے پڑجاتا تھا، نئے آمرانہ پاکستان میں ہم یہ پھر دیکھ رہے ہیں۔ وزیر مواصلات مراد سعید نے بلاول کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان میں شرم و حیا نہیں ہے، بلاول بھٹو پارٹی کا حادثاتی چیئرمین ہے،یہ سب چورہیں، ان لوگوں نے سندھ کو اور ملک کو لوٹا ہے، بلاول کووالدہ کے قتل پر غیرت دکھانی چاہیئے تھی، منی لانڈرنگ کیس میں غیرت دکھانی چاہیئے تھی۔ مسلم لیگ ن کے اراکین کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے باعث ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اجلاس (آج) جمعہ کی صبح 11بجے تک ملتوی کر دیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں نے ابھی ٹی وی پر دیکھا ہے کہ مریم نواز صاحبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے،انہیں اس حکومت نے گرفتار کیا ہے، میرا خاندان اس ملک میں نسلوں سے سیاست کررہا ہے، ہم نے اس ملک میں سب کچھ دیکھا، اس ملک میں ظالم آمر ضیاء بھی دیکھا ہے، آمر ضیا ء وہ واحد شخص تھا جو سیاسی مخالفین کی عورتوں کے پیچھے پڑجاتا تھا، نئے آمرانہ پاکستان میں ہم یہ پھر دیکھ رہے ہیں،آپ اتنے بغیرت ہو، کہ سیاسی مخالفین کی خواتین کو گرفتار کرتے ہوئے،لڑنا ہے تو مردوں سے لڑو۔تاریخ یاد رکھے گی کہ نیا پاکستان جس میں آپ نوجوانوں سے کہتے تھے کہ میں انصاف کروں گا، تاریخ یاد رکھے گی کہ انصاف کی بات کرنے والے عمران خان آمر بن گئے۔نیا پاکستان میں آپ نے بغیر کسی عدالتی سزا کے مریم نواز صاحبہ کو گرفتار کیا ہے اس بات پر میں احتجاجاً واک آئوٹ کرتا ہوں۔ بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ وقت مودی پر تنقید اور مذمت کا ہے لیکن اپوزیشن سے انتقام لیا جارہا ہے لیکن اس ماحول میں بھی سلیکٹڈ وزیراعظم اپنی انا پر قابو نہیں کرپا رہے، عمران خان نے فرد جرم کے بغیر مریم نواز کو گرفتار کرلیا، ضیا الحق کے دور میں عورتوں پر مقدمے ہوتے تھے، اب نئے پاکستان میں بھی عورتوں پر مقدمے ہورہے ہیں جو قابل افسوس ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے واک آئوٹ کے بعد مسلم لیگ(ن) کے احسن اقبال نے مائیک مانگا تو ڈپٹی سپیکر نے وفاقی وزیر مراد سعید کو مائیک دیدیا۔جس پر مسلم لیگ (ن)کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔مسلم لیگ (ن) نے ارکان نے ڈپٹی سپیکر کی ڈائس کا گھیرائو کیا اور شدید نعرے بازی کی۔لیگی ارکان نے چاروں صوبوں کی آواز مریم نواز میرم نواز،کشمیر کا سوداگر نا منظور،لاٹھی گولی کی سرکار نامنظور،کشمیر بیچنے والا نامنظور،مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے،سلیکٹڈ اور پپٹ وزیر اعظم نامنظور اورگلی گلی میں شور ہے عمران کی باجی چور ہے کے نعرے لگائے۔اس دوران وزیر مواصلات مراد سعید خطاب کرتے رہے اور کہا کہ ان میں شرم و حیا نہیں ہے، بلاول بھٹو پارٹی کا حادثاتی چیئرمین ہے۔ خورشید شاہ، احسن اقبال سب نے چوری کی ہے، ان لوگوں نے سندھ کو اور ملک کو لوٹا ہے، یہ مودی کے یار ہیں، سجن جندال کو اپنے گھر کس نے بلایا۔ انہوں نے سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالا، حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔ پارلیمان کے اندر نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے،بلاول کووالدہ کے قتل پر غیرت دکھانی چاہیئے تھی، منی لانڈرنگ کیس میں غیرت دکھانی چاہیئے تھی۔ کراچی میں صفائی ہو رہی تھی تو آپ کی غیرت کہاں گئی۔ سندھ میں سب سے زیادہ غربت ہے اس پر آپ کی غیرت کہاں گئی؟ آپ میں بات سننے کا حوصلہ نہیں ہے، آپ کی سیاسی تربیت نہیں ہوئی۔مسلم لیگ ن کے اراکین نے شدید احتجاج کیا اور شور شرابے کے باعث ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اجلاس (آج) صبح 11بجے تک ملتوی کر دیا۔(رڈ)

اپنا تبصرہ بھیجیں