کورونا کوشکست، نیوزی لینڈ کے میدانوں کی رونقیں بحال ہونے لگیں

0

کوروناکو شکست دینے والے نیوزی لینڈ کے میدانوں کی رونقیں بحال ہونے لگیں،وہ تماشائیوں کے ساتھ پروفیشنل اسپورٹس کرانے والا پہلا ملک بنے گا،ہفتے کو ڈونیڈن اور اگلے روز آکلینڈ میں رگبی میچ کے دوران اسٹیڈیمز کھچا کھچ بھرے ہوں گے،کرکٹ ورلڈکپ کوبھی کیویز کے دیس منتقل کرنے کی آوازیں بڑھنے لگیں،ادھرآسٹریلیا میں بھی صورتحال مسلسل بہتر ہونے لگی ہے۔

سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف نے نومبر،دسمبر میں مقابلوں کے انعقاد کا مشورہ دیدیا، صورتحال پرآئی سی سی بدھ کو میٹنگ میں غورکرے گی،دریں اثنا ورلڈکپ کے التوا میں گہری دلچسپی رکھنے والے بھارت کویو اے ای نے آئی پی ایل کیلیے وینیوز دینے کی پیشکش کر دی، امارات کرکٹ بورڈ کے مشیر سبحان احمد کا کہنا ہے کہ اکتوبر،  نومبر میں لیگ کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تو ہماری خدمات حاضر ہوں گی۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ میں کورونا کا  پہلا کیس 30 اپریل کو سامنے آیا تھا، اب صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور گذشتہ 17 دن میں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، اجتماعات اور تقریبات پر سے پابندی اٹھا لی گئی ہے، اسٹیڈیم میں میچز کے دوران تماشائیوں کی آمد کو محدود رکھنے کی بھی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی، ہفتے کو ڈونیڈن اور اتوار کو آکلینڈ میں رگبی میچ کے دوران اسٹیڈیمز کھچا کھچ بھرے ہوں گے۔

کورونا وائرس سے کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہونے کے بعد نیوزی لینڈ پہلا ملک ہے جہاں پروفیشنل اسپورٹس میں تماشائیوں کی بھرپور رونق موجود ہوگی،کیوی کرکٹر جمی نیشم نے بھی اس موقع پر پوری قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا فری نیوزی لینڈ مبارک ہو، بہترین حکمت عملی عزم اور ٹیم ورک کی بدولت یہ مشن مکمل ہوا۔ ادھر آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد رواں سال اکتوبر، نومبر میں آسٹریلیا میں ہونا ہے،کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں انتہائی محتاط نظر آنے والی آسٹریلوی حکومت نے ملک میں سخت ترین اقدامات اٹھانے کے ساتھ سرحدیں بھی ستمبر کے وسط تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا، کرکٹ آسٹریلیا بھی میگا ایونٹ کی رواں سال میزبانی کے بجائے آئندہ سال جنوری تک انتظار کرنے کی بات کرنے لگا تھا۔

اس حوالے سے حتمی فیصلہ بدھ کو آئی سی سی کی ٹیلی کانفرنس میں ہوگا،البتہ گذشتہ چند روز سے آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی آتی رہی اور اب معاملات کنٹرول میں نظر آ رہے ہیں،اس صورتحال میں یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کو آئندہ سال تک ملتوی کرنے کے بجائے اسی برس نومبر، دسمبر میں کرایا جائے،سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کہاکہ آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کا گراف تیزی سے نیچے آرہا ہے، نومبر، دسمبر میں ورلڈکپ کرانا ممکن ہوگا۔ یاد رہے کہ چند روز قبل سابق آسٹریلوی بیٹسمین ڈین جونز نے کہا تھا کہ اگر آسٹریلیا میں حالات ساز گار نہیں تو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد نیوزی لینڈ میں کیا جائے، سرکاری طور پر کورونا کے خلاف جنگ جیتے جانے کا اعلان کیے جانے کے بعد ایونٹ کی میزبانی کیلیے کیویز کا کیس بھی مضبوط ہوگیا۔

دریں اثنا بی سی سی آئی کی خواہش ہے کہ کسی طور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا التوا ہو تاکہ اکتوبر، نومبر میں آئی پی ایل کی پلاننگ ہوسکے،بھارت میں حالات سازگار نہ ہوئے تو سری لنکا یا یو اے ای میں ہی میلہ سجا لیا جائے۔اس حوالے سے ایک خلیجی اخبار کو انٹرویو میں امارات کرکٹ بورڈ کے مشیر سبحان احمد نے کہاکہ یو اے ای میں 2014 میں ہونے والے آئی پی ایل کے مقابلے بھرپور توجہ کا مرکز بنے تھے، اگر اس بار بھی بی سی سی آئی اپنی لیگ کے میچز امارات میں کرانا چاہے تو ہمارے انٹرنیشنل معیار کے وینیوز دستیاب ہوں گے،انھوں نے کہا کہ یہاں برصغیر سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد موجود ہے، اسٹیڈیمز میں رونقیں بھی کم محسوس نہیں ہوں گی، نومبر، دسمبر میں یو اے ای کا خوشگوار موسم بھی کرکٹ کے لیے سازگار ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.