عوام کے مفاد میں حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پڑے، ڈاکٹر ظفر مرزا

0

اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی وبا کے خلاف اقدامات کو سراہتے ہیں ڈبلیو ایچ او کا بظاہر مسئلہ صحت سے متعلق ہے لیکن حکومتوں کو ایک جامع تصویر کو دھیان میں رکھنا ہوتا ہے حکومتوں کو خطرے کی تشخیص کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوتے ہی اور پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے لکھے گئے خط پر اپنے بیان میں ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کورونا سے لڑنے کے مؤثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے ماتحت نیشنل کمانڈ اینڈ اآپریشن سینٹر کا قیام عمل میں لائی این سی او سی میں روزانہ کی بناید پر اجلاس ہوتے ہیں ماہرین کے ساتھ ملکر کورونا کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورت حال کا جائزہ لیا جاتا ہے صوبوں سے ملکرسفارشات تیار کی جاتی ہیں۔ این سی سی کمیٹی کی صدارت وزیر اعظم کرتے ہیں،این سی سی میں تمام وزرائے اعلیٰ اور وزیر اعظم آزاد کشمیر شرکت کرتے ہیں اور تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں اور ڈبلیو ایچ او کے ایسٹرن ریجن کے بائیس ممالک میں سب سے بڑا ملک ہے پاکستان کم اور مڈل آمدنی والا ملک ہے ہماری دو تہائی آبادی روزانہ کی آمدنی پر انحصار کرتی ہے ہم نے پاکستانی عوام کو وبا سے بچانے کے لئے ہر ممکن فیصلے کئے ہمیں وبا سے زندگیاں بچانے اور روزگار کے درمیان بیلنس رکھنے کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ہم نے لاک ڈاون میں نرمی کے ساتھ ایس او پیز پر عمل پیرا ہیں ہم نے دکانوں ، انڈسٹریز، مساجد، پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے ایس او پیز بنائے،ملک میں ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے کورونا کے ہاٹ سپاٹ کی نشاندہی کے لئے ٹیسٹنگ، ٹریسنگ، اور کورنٹائن کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں پاکستان میں ابتک سات سو سے زائد سمارٹ لاک ڈاؤن لگائے گئے ہیں کرونا کے حوالے سے ہماری حکمت عملی کا ایک پہلو اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہے ہماری پالیسیاں تحقیق اور تکنیکی اعتبار سے حاصل کیے گئے تجزیات کی بنیاد اورمعیشیت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہیں۔…(آ چ)

Leave A Reply

Your email address will not be published.