پاکستان میں اب تک 200 سے زائد کورونا کے مریضوں کا پلازمہ تھراپی سے علاج

0

کراچی:  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کے اسپیشلٹ ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا ہے کہ کوروناوائرس کے علاج کیلئے اب تک ملک بھر میں دو سو سے زائد افراد کو پلازمہ لگایا جاچکا ہے،پلازمہ تھراپی کیلئے روز تین سو درخواستیں آرہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کے اسپیشلٹ ڈاکٹر طاہر شمسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بغیر ویکسین اور دوا کے وائرس کیخلاف جنگ لڑرہے ہیں، پلازمہ کے ذریعے لوگوں کی جانیں بچانیکی کوشش ہورہی ہے ، 200 سے زائد افراد کو پلازمہ لگایا جاچکا ہے۔ڈاکٹر طاہرشمسی کا کہنا تھا کہ کوروناسیمتاثر80سے90فیصد افراد کی وینٹی لیٹرز سے واپسی نہیں ہوتی، دیگرممالک میں جدید مشینری،تجربہ کار عملہ ہے وہ بھی کنٹرول نہیں کرپارہا۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز کے اسپیشلٹ نے کہا کہ پلازمہ دینیوالے شاید ہماری بات سمجھ نہیں پارہے ، صحت یاب ہونیوالے مریض پلازمہ نہیں دے رہے، پلازمہ کیلئے روزانہ 300سیزائددرخواستیں مل رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 80 فیصدمریض پلازمہ لگنے سے صحت یاب ہوجاتیہیں، مہنگی دواؤں کے بجائے پلازمہ کے اخراجات انتہائی کم ہیں۔ڈاکٹر طاہرشمسی نے کہا کہ 80 فیصد افراد وینٹی لیٹر پرجانے سے پہلے ٹھیک ہوجاتے ہیں، پی سی آر منفی ہونیکیکم سے کم دو ہفتے بعد پلازمہ دیا جاسکتا ہے، پلازمہ دینے سے صحت یاب مریض کو کوئی جسمانی نقصان نہیں ہوتا۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ ا?ف بلڈ ڈیزیز کے اسپیشلٹ کا کہنا تھا کہ صحت یاب افراد نے ایک بارپلازمہ دیا تو 2 مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے، پلازمہ اکٹھے کرنے کا انتظام مختلف شہروں میں ہورہا ہے، صحتیاب ہونے والے افراد ہر ہفتے پلازمہ عطیہ کرسکتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا ڈاکٹر چیختے رہیکہ لاک ڈاؤن کریں، ہم نے ان کا مذاق اڑایا، حکومت کی طرف سے پلازمہ دینے کیاخراجات خود برداشت کررہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.