جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس ،نواز شریف کی نظر ثانی درخواست نمٹادی

0

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے جج ارشد ملک وڈیو سکینڈل کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نظر ثانی درخواست نمٹا تے ہوئے فیصلے میں عدالتی آبزرویشنز سے متعلق سابق وزیر اعظم کی استدعا منظور کر لی جبکہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ ہماری منشا یہ نہیں تھی کہ عدالتی آبزرویشنز سے کوئی متاثر ہو ،ہم ججز ہیں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرسکتے ،تفصیلی فیصلے میں لکھ دیں گے کہ ہائیکورٹ عدالتی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کرے،اسلام آباد ہائیکورٹ ویڈیو سکینڈل پر اپنا فیصلہ کرنے میں مکمل آزاد ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ اپنا راستہ خود تلاش کرے،جو فیصلہ بھی ہو گا میرٹ پر ہوگا۔ منگل کو جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نواز شریف کی نظر ثانی درخواست سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔وکیل درخواست گزار سہیل اختر ،اکرام چوہدری نے کہاکہ ہم بھی عدالتی فیصلے پر نظر ثانی چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اپنے فیصلے میں ہم نے کوئی حکم نہیں دیا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے کہا ہائیکورٹ کے پاس اختیار ہے وہ جو فیصلہ کرے۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ دیکھنا یہ ہے پریس کانفرنس سے عدلیہ کو نقصان پہنچا یا نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت نے اس واقعہ کے بعد ازخود نوٹس نہیں لیا، ہم نے انتظار کیا تو 3 درخواستیں آ گئیں، فیصلے میں لکھا بہت سی چیزیں تفتیش طلب ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ویڈیو کے بارے میں قانون کی بات کی، فیصلہ میں لکھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اپنا طریقہ کار اپنائے،قانون کی بات کر کے درخواستیں مسترد کر دی تھیں، کیسے تسلیم کر لیں گے عدلیہ کو نقصان پہنچا؟انہوںنے کہاکہ چیف جسٹس نے کہاکہ خواجہ صاحب نظرثانی میں جو باتیں کیں وہ عدالت پہلے مان چکی ہے،تبصرے شروع ہو گئے کہ ہائیکورٹ کے ہاتھ باندھ دیئے گئے۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ بات تب ہوتی ہے جب فیصلہ پڑھے بغیر تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ ویڈیو سکینڈل پر اپنا فیصلہ کرنے میں مکمل آزاد ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ فریقین کو نوٹس اس لئے نہیں کیا کہ درخواستیں منظور نہیں کیں۔ خواجہ حارث نے کہاکہ عدالت کے سامنے کسی مقصد کیلئے آیا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت سے جو آپ مانگ رہے ہیں ہم پہلے ہی دے چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ہاتھ فیصلے سے نہیں باندھے گئے،کسی نقصان کا احتمال ہے تو پھر پوزیشن کو کلیئر کر دیتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ اپنا راستہ خود تلاش کرے،جو فیصلہ بھی ہو گا میرٹ پر ہوگا خواجہ حارث نے کہاکہ عدالت میری بات سن لے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو سنناہمیشہ باعث مسرت ہوتاہے، ہماری منشا یہ نہیں تھی عدالتی آ بروز شن سے کوئی متاثر ہو۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ نہیں کہا ویڈیو کی تصدیق کے قانون میں تبدیلی نہیں آسکتی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے ویڈیو مووی کیمرا پر ہوتی تھی ، اب ریکارڈ نگ کے طریقے بدل گی ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ وقت کے ساتھ چیزیں بدلتی ہے تو قانون بھی بہتر ہوجاتا ہے ۔ خواجہ حارث نے کہاکہ ویڈیو کی تصدیق کے لئے دیگر تقاضے بھی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ویڈیو اسکینڈل کو عدالت اپنے میرٹ پر رکھے۔دور ان سماعت سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک وڈیو سکینڈل کی نظر ثانی درخواست نمٹا تے ہوئے فیصلے میں آبزرویشن کے حوالے سے استدعا منظور کرلی ۔ عدالت نے نکہاکہ عدالتی آبزرویشنز ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران اثر انداز نہیں ہونگی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم ججز ہیں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتے ، نظر ثانی درخواست پر تحریری فیصلہ بعد میں جاری کریں گے، فیصلہ میں لکھا ہمارے دخل اور مداخلت کی گنجائش نہیں، عدالت نے معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پر چھوڑا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ قانون جانے اور اس کا کام ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.