بدقسمتی سے بلوچستان میں بچوں کی صحت کی صورت حال دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی خراب ہے ،شکیلہ نوید دہوار

0

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان میں نوزائیدہ بچوں کی بقاء کیلئے حکمت عملی اور عملی منصوبہ شروع کردیاگیاہے جس کامقصد بلوچستان میں نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کے بعد کی بقاء ،بہترین دیکھ بھال،خوراک کی فراہمی کیلئے اقدامات کرینگے ،بدقسمتی سے بلوچستان میں بچوں کی صحت کی صورت حال دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی خراب ہے اور یہاں بہت سارے پیدا ہونے والے بچے اپنی پہلی سالگرہ تک پہنچنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید دہوار ،صوبائی سیکرٹری صحت مدثر وحید ملک ،یونیسف کی پاکستان میں نمائندہ Aida Girma ،پروگرام کوارڈینیٹر ڈاکٹر محمد اسماعیل ،ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ ڈی جی ہیلتھ آفس ڈاکٹر کمالان گچکی ،ڈاکٹرسرمد سعید ،ڈاکٹر شہک ریاض ،وائس چانسلر جامعہ بلوچستان پروفیسر ڈاکٹرانور پانیزئی سمیت دیگرنے Provincial Newborn Survival Strategy Balochistan کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے کہاکہ بدقسمتی سے بلوچستان میں نومولود بچوں کی صحت کا بہتر دیکھ بھال کیلئے سہولیات کافقدان تھا بلوچستان میں نوزائیدہ بچوں کی بقاء کیلئے حکمت عملی اور عملی منصوبہ کا جو پروگرام شروع کیاگیاہے اس سے نومولود بچوں کی شرح اموات میں کافی حد تک کمی آئے گی۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان کمالان گچکی حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت کی جانب سے نومولود بچوں کی اموات کی روک تھام اور ان بیماریوں کے خاتمے کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ،آج جس پروگرام کاافتتاح ہواہے اس سے نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں کافی حدتک کمی آئے گی ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیسف کی پاکستان میں نمائندہ Aida Girma نے کہاکہ مجھے انتہائی خوشی ہورہی ہے کہ یونیسیف یہاں قیمتی نومولود جانوں کی تحفظ کیلئے نیوبرن سرووائیول اسٹریٹجی میں اپنا حصہ ڈال رہاہے ،اس دنیا میں آنے والے ہر نوزائیدہ بچے کو رہنے کا حق حاصل ہوتاہے اور ان کی بہتر دیکھ بال اور علاج کیلئے سہولیات کی فراہمی بھی اہم ذمہ داری ہے ،نوزائیدہ بچوں کو ان بیماریوں ”جو روکنے کے قابل ہیں ” سے بچانے کیلئے اقدامات اٹھانے ہونگے کیونکہ یہ شروعات ہوتی ہے جب نوزائیدہ بچے کو ان بیماریوں سے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا آبادی ہے،وسیع رقبے کے باعث بہت سارے چیلنجز بھی ہیں جن میں صوبے میں مالی مشکلات اور دوردراز علاقوں تک رسائی ہے،یونیسیف ، ڈبلیو ایچ او ، یو این ایف پی ایاور دیگر متعلقہ تنظیموں کے مابین ، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت سے متعلق امور کو حل کرنے کے لئے ایم این سی ایچ پروگرام ”نوزائیدہ کی بقا ء کی حکمت عملی ”میں تعاون مدد ثابت ہوگی ،ایم این سی ایچ پروگرام بلوچستان کے تحت صوبے کے15اضلاع میں کام جاری ہے جبکہ دیگر اضلاع تک توسیع کی بھی ضرورت ہے ،اس وقت تمام مزکورہ اضلاع میں کمیونٹی مڈوائفس کے اسکول فعال ہیں جس میں اب تک 1424 دائیوں کو تربیت دی جا چکی ہے جبکہ پروگرام میں 256اندراج شدہ ہیں،مقررین نے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان ،سیکرٹری صحت ، ڈی جی ہیلتھ کی سربراہی میں ایم این سی ایچ پروگرام کی ٹیم صوبے میں ہونے والی اموات میں کمی لانے کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہاکہ زچگی کے دوران نوزائیدہ اور بچوں کی صحت سے متعلق صورتحال باعث تشویش ہے ،بدقسمتی سے بلوچستان میں بچوں کی صحت کی صورت حال دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی خراب ہے اور یہاں بہت سارے پیدا ہونے والے بچے اپنی پہلی سالگرہ تک پہنچنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔پیدائش کے دوران 785/100000کی تعداد میں مائوں کی اموات واقع ہوتی ہے جبکہ 1000میں سے 34نوزائیدہ زندگی کے پہلے 28دنوں کے اندر مر جاتے ہیں ،صحت کے اصولوں پر عملدرآمد سے ہی ان اموات کو روکاجاسکتاہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.