حکومت کا جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ

0

 اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے قومی اسمبلی بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، معاملے پرسیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائیگی ،دوسری سیاسی جماعتیں بھی سمجھتی ہیں کہ جنوبی پنجاب محرومیوں کا علاقہ ہے ،محرومیوں کو ختم ہوجانا چاہیے، آبادی کے تناسب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 35 فیصد فنڈز جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیے جائیں گے جسے واپس نہیں لیا جائیگا، بل کیلئے آئینی ترمیم درکار ہے اور اس کیلئے سیاسی مفاہمت میں وقت لگے گا،جنوبی پنجاب کا دارالحکومت کہاں بنے کا اس کا فیصلہ عوام اور منتخب نمائندوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے اسمبلی کریگی،مکمل سیکریٹریٹ ساڑھے تین ارب روپے درکار ہوگا ،تیرہ سو ملازمتیں پیدا ہوں گی،ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب تعینات ہونگے،ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کا دفتر بہاولپور میں ہوگا،ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کا دفتر ملتان میں ہوگا۔بدھ کو یہاں معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا اور اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی بھی شریک ہوئے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کو عمل جامہ پہنانے کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جائے گا اور اس سلسلے میں دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی اور ان کی بھی تائید حاصل کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی یہ سمجھتی ہیں کہ جنوبی پنجاب محرومیوں کا علاقہ ہے جس کی محرومیوں کو ختم ہوجانا چاہیے۔اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ اس سال جو مالی بجٹ بنے گا اس میں آبادی کے تناسب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 35 فیصد فنڈز جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیے جائیں گے جسے واپس نہیں لیا جائے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں فنڈز مختص کردیے جاتے تھے بجٹ میں نشاندہی کردی جاتی تھی تاہم سال کے دوران انہیں واپس لے لیا جاتا تھا، جب فنڈز کے حقیقی استعمال کا وقت آتا تھا جنوبی پنجاب سے کیا گیا وعدہ وفا نہیں ہوپاتا تھا۔وزیر خارجہ کے مطابق اب بجٹ میں مختص شدہ فنڈز کو ایسا تحفظ دے دیا گیا ہے جسے واپس نہیں لیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ بل کیلئے آئینی ترمیم درکار ہے اور اس کے لیے سیاسی مفاہمت میں وقت لگے گا اس لیے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ عوام کے دیرینہ مطالبے پر بلا تاخیر ان کے مسائل ان کے دہلیز کے قریب حل کرنے کیلئے سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) کو تعینات کردیا جائے کیوں کہ انفرا اسٹرکچر اورایک مکمل سیکریٹریٹ بننے وقت درکار ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان 2 میں سے ایک عہدیدار بہاولپور جبکہ دوسرا اپنا ہیڈ کوارٹر ملتان میں بنائیگا۔انہوں نے کہ اس سلسلے میں مالیاتی ضروریات کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا ہے جس کے تحت چیف سیکریٹری نے آگاہ کیا کہ سیکریٹریٹ کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے اور 1350 اضافی آسامیاں درکار ہیں۔شاہ محمود قریشی نے سابق قائم مقام وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔اس کے ساتھ کا کہنا تھا کہ میں ان تمام افراد کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے جنوبی پنجاب کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کو عملی شکل دینے کے لیے آج ایک تاریخی دن ہے۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم نے اعداد و شمار کا مطالعہ کر کے کہا کہ اس علاقے میں غربت بہت زیادہ ہے اور غربت مٹاؤ کے سلسلے میں اس علاقے پر جس قدر توجہ دی جانی تھی وہ ماضی میں نہیں دی گئی۔وزیر خارجہ کے مطابق یہ ایک بہت بڑی ڈویلپمنٹ ہے جس سے وفاق پاکستان مضبوط ہوگا۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جنوبی پنجاب کے صوبہ بنے کے بعد تمام لوازمات جو باقی صوبوں کو حاصل ہیں مثلاً این ایف سی، وفاقی میں نمائندگی اسے بھی ملے گی جبکہ ترقی کے لیے درکار اقدمات بھی اس صوبے کو حاصل ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا ماضی میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں پارلیمنٹ کی 2 تہائی اکثریت نہ ہونا سب سے بڑی رکاوٹ تھی تاہم پچھلے ادوار میں 2 تہائی اکثریت کے باجود مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے باوجوہ کچھ نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اس حوالے سے موقف رکھتی تھی اور بلاول بھٹو نے بھی اس پر بات کی ہے تو توقع ہے کہ پیپلز پارٹی والے اپنے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبے کے بل کی حمایت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف نے بھی ماضی میں کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کو اس کا حق ملنا چاہیے اس لیے میں توقع کرتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین بھی اپنی قیادت کو قائل کریں گے کہ محرومی میں جکڑے ہوئے اس علاقے کی آواز بنیں۔مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کی تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے انتخابی منشور کے وعدے کو پورا کرتے ہوئے ایک روڈ میپ پیش کیا ہے جس پر عمل کیا جائیگا اور ہماری کوشش اور خواہش ہے ان افراد کو بھی ہم نوا بنائیں۔بہاولپور اور ملتان میں آدھے سیکریٹریٹ کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا دارالحکومت کہاں بنے کا اس کا فیصلہ عوام اور منتخب نمائندوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے اسمبلی کرے گی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ائیر فورس کے طیارے گرنے پر افسوس اور شہدا کیلئے دعاکرتے ہیں۔ ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جب ایک صوبہ بنے گا تو اس کی تمام لوازمات بھی حاصل ہوں گی ،این ایف سی ایوارڈ سے حصہ ملے گا ،وفاق میں بھی نمائندگی ملے گی ،جنوبی پنجاب صوبے کی راستے میں رکاوٹ دوتہائی اکثریت نہیں تھی ،اب بھی دو تہائی اکثریت نہیں ،ایک وقت تھا کہ مسلم لیگ ن کے پاس دو تہائی اکثریت تھی وہ صوبہ بنا سکتی تھی ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مسلم لیگ نے بھی جنوبی پنجاب کیلئے کہا تھا کہ ان کو حق ملنا چاہیے ،توقع کرتے ہیں جنوبی پنجاب کے ممبران اپنی قیادت کو قائل کریں گے۔انہوںنے کہاکہ ہرجماعت کی اپنی رائے ہے جنوبی پنجاب کا صوبہ ہمارے منشور کا حصہ تھا۔ معاون خصوصی فردو س عاشق اعوان نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان سے جنوبی پنجاب کی اہم قیادت نے تفصیلی نشست کی،جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق امور پر تفصیلی بات ہوئی۔ڈاکٹر فردوس نے کہاکہ ملاقات میں جنوبی پنجاب صوبے کے مجوزہ سیکرٹریٹ کے قیام کا بھی جائزہ لیا گیا،وزیراعظم جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیاں دور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ

Leave A Reply

Your email address will not be published.