مجوزہ امریکی امن منصوبے کی شرائط قابل قبول نہیں، فلسطینی وزیر خارجہ

مجوزہ امریکی امن منصوبے کی شرائط قابل قبول نہیں، فلسطینی وزیر خارجہ

نیویارک(زیبائے پاکستان آئی این پی) اسرائیلی بستیوں کی آباد کاری پر بحث کیلئے سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فلسطینی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ امریکی امن منصوبے کی مسلط شرائط قابل قبول نہیں۔تفصیلات کے مطابق فلسطینی اراضی میں اسرائیلی بستیوں کی آباد کاری پر بحث کے لیے مختص سلامتی کونسل کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں فلسطینیوں اور امریکیوں کے درمیان مستقبل کے اس امن منصوبے کے حوالے سے متضاد موقف سامنے آئے، جو امریکا جون میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اجلاس میں فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ مستقبل کے لیے امریکی امن منصوبہ امن کوششوں کا ثمر نہیں ہے۔اس موقع پر مشرق وسطی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیسن گرین بلاٹ بھی موجود تھے۔فلسطینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اب تک تمام باتیں اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ یہ امر امن منصوبے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ایسی شرائط سے متعلق ہے جو ہمیں قبول کرنا ہوں گی، یہ بات یاد رہے کہ کوئی بھی قیمت ان شرائط کو قابل قبول نہیں بنا سکتی ہے۔فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی کے مطابق اوسلو امن سمجھوتے پر دستخط کے وقت یہودی آباد کاروں کی تعداد ایک لاکھ تھی اور آج اس معاہدے کے 25 برس بعد فلسطینی اراضی پر 6 لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کار موجود ہیں۔فلسطینی وزیر نے باور کرایا کہ اب تو اسرائیل قبضے کی نیت سے بستیوں کی سرگرمیوں اور فلسطینی اراضی اپنی ریاست میں ضم کرنے کی نیت کو بھی خفیہ نہیں رکھتا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اجلاس کے بعد فلسطینی وزیر نے میڈیا کو واضح کیا کہ انہوں نے امریکی مشیر سے براہ راست بات نہیں کی۔ المالکی کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ بات کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی مشیر نے صرف فلسطینیوں پر نکتہ چینی کی۔فلسطینی وزیر کے مطابق گرین بلاٹ کا خطاب بھلائی کی خبر نہیں دے رہا۔جواب میں امریکی مشیر جیسن گرین بلاٹ کا کہنا تھا کہ مجوزہ ویژن حقیقی اور قابل تکمیل ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں