زرعی شعبے میں جدید تحقیق، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، صدر مملکت

0

 اسلام آباد (این این آئی)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ زرعی شعبے میں جدید تحقیق، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، پیداواری لاگت بڑھنے سے زرعی شعبہ متاثر ہوا ہے، زرعی تحقیق کو کاشتکاروں تک پہنچائے بغیر حقیقی ثمرات کا حصول ممکن نہیں ہوگا، ہماری زرعی پیداوار کیوں کم ہوئی، ہمیں اس حوالے سے ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ہو گا۔وہ جمعرات کوقومی اسمبلی سیکرٹیریٹ کے زیر اہتمام زراعت پر قومی مکالمے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ سپیکر اسد قیصر کو زراعت پر پارلیمانی کمیٹی بنانے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی تھی اور ہے تاہم اس کے باوجود ہم مہارت لیتے ہیں تو اس میں ہماری کوئی غلطی ہے جس سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے،ماضی کی غلطیوں سے ہمیں سیکھنا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ زراعت ہماری قومی معیشت کا معاملہ ہے جو قومیں خود سکیورٹی کاخیال نہیں رکھتیں وہ پریشان رہتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ 18.5 فیصد آبادی کا تعلق زراعت سے ہے،پیداواری لاگت بڑھنے سے زراعت کا شعبہ متاثر ہوا ہے، بتدریج ہماری فی ایکڑ پیداوار کم ہو گئی ہے۔ زمانہ بدل رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے سڑکوں کے حوالے سے ترقی کی، کسان اپنی اجناس سٹور نہیں کر سکتا، اس طرف توجہ دینا ہو گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ میرے والد کی 200 سے اڑھائی سو ایکڑ اراضی گھارو میں تھی میں جب کبھی وہاں جاتا تو پیڑ کے نیچے چار پائی بچھا کے سو جاتا وہ مجھے اب بھی یاد آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کل پیداوار کا 5 فیصد کسان کا نقصان ہو جائے تو وہ بہت متاثر ہوتا ہے،اس طرح فشریز میں نقصان ہوتا تھا۔ پھر سرد خانے بنا ئے گئے اور ان کا مسئلہ حل ہوا۔ انہوںنے کہاکہ زراعت پانی دھوپ، کرم کش ادویات اور کھاد کے بغیر نہیں چل سکتی ۔ پانی کا مؤثر استعمال اس میں بے حد اہمیت کا حامل ہے لہذا ہمیں فلڈ اری گیشن سے سپرنکل اری گیشن کی طرف جانا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ پانی کی بچت اور مؤثر استعمال کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا، دنیا میں ڈرپ اری گیشن کے استعمال سے ہم سے بہت ممالک آگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کی تہذیب دنیا کی پرانی تہذیب ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائوں کے کنارے سے نہریں نکالنے کا نظام ترقی کرگیا ہے۔ ہمیں اس طرف بھی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے اس کے حوالے سے تحقیق پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کپاس کے بیچ پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس میں استعمال ہونے والی مؤثر کرم کش ادویات اور سیڈ ڈویلپمنٹ پر توجہ دینی ہو گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ زراعت میں مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ کے شعبہ کی اہمیت بڑھ گئی ہے ۔ دنیا میں آبپاشی اور دیگر زرعی امور میں روبوٹ کا استعمال بھی کیا جارہا ہے، اس طرف توجہ دے کر بھی ہم اپنی زرعی صلاحیت میں اضافہ کر سکتے ہیں، اس سے ہم زرعی صلاحیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے اچھے فیصلے کئے ہیں۔ گنے کی فصل کی بہتری اچھی بات ہے۔ ہمیں نقد آور فصلوں پر بھی توجہ دینی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ زیتوں کے لئے پاکستان بہترین جگہ ہے۔ اس سے ہم اپنی برآمدات میں اضافہ کرسکتے ہیں اور اس پر ملک میں بہت کام بھی ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوشنل میموری کے حوالے سے بھی ہمیں اقدامات اٹھانا ہوں گے کیونکہ ایک ملک جو محدود سائل رکھتا ہے اس سے ہمیں دستیاب وسائل بہتر انداز میں استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔ فیصل آباد زرعی یونیورسٹی، ٹنڈو جام زرعی یونیورسٹیوں کی اچھائیوں اور کامیابیوں سے واقف ہوں۔ اگر ہماری اپنی زرعی پیداوار کی منڈیوں میں اہمیت نہیں ہو گی تو ہمیں اپنی خامیوں پر نظر رکھنا ہو گی۔ ہمیں اپنی یونیورسٹیوں میں فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی تحقیقی صلاحیتوں اور زرعی تحقیق کو پاکسان تک پہنچانا ہو گا۔ ہم نے زراعت کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے ہیں اور اس کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان لینڈ فشریز کے ذریعے ہم بے انتہا ترقی کرسکتے ہیں ۔ 1999ء میں ہماری فشریز کی ایکسپورٹ 300 ملین ڈالر تھی ۔ اب ہم 500 ملین ڈالر تک پہنچے ہیں جبکہ پڑوسی ملک 10 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کام کی حکومت سے توقع کی جاتی ہے۔ حکومت امدادی قیمت کا تعین کرنی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے نیشنل سکیورٹی کو یقینی بنائے کیونکہ خوراک کے تحفظ کا قومی سلامتی سے گہرا تعلق ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.