جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنماء سنیٹر مولانا حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک نہیں دو حکومتیں کام کررہی ہے

0

جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنماء سنیٹر مولانا حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک نہیں دو حکومتیں کام کررہی ہے ہمارے ملک میں سیاست اور جمہوریت دولت اور طاقت کے ہاتھوں یرغمال ہے وزیراعظم اور کابینہ کو خود علم ہے کہ فیصلے کہاں ہورہے ہیں وفاقی کابینہ میں سات وفاقی وزراء دہری شہریت کے حامل ہیں ان میں سے ایک ایسا بھی ہے جو کہ غیر پاکستانی ہے کرونا کے مسئلے پر حکومت لاک ڈاون سمارٹ لاک ڈاون شٹر ڈاون کرفیو آج تک فیصلہ نہ ہوسکا کہ ان چار میں سے ہم نے کیا فیصلہ کرنا ہے لہذا ہمارا دعوی صحیح ہے کہ عملا حکومت کا وجود نہیں ہے اگر ہے تو نامعلوم کی حکومت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ پشین کے موقع پر صحافیوں اور پشین کلی منزکی حمید آباد میں ختم قرآن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر مولانا سید رحمت اللہ آغا حافظ امیر محمد مولانا عبدالقدیر مولانا سید عمرجان آغا مولانا محیب اللہ عزیزاللہ چشتی اور دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی تاریخ رہی ہے کہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مدمقابل اپنی سیاسی جدوجہد کی ہے پاکستان بننے سے پہلے بھی انگریز کے خلاف تاریخی جدوجہد اور لازوال قربانیاں دی ہیں جمعیت علماءاسلام نے جنرل ایوب جنرل یحیا جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے مارشلاوں کی مخالفت کی ہے البتہ جمہوریت اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت آئین کی خلاف ورزی اور آرٹیکل 6 و حلف کی بھی خلاف ورزی ہے لہذا ہم ملک میں آئین کی بالادستی عوام کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی اسپرمیسی چاہتے ہیں امریکن خاتون ستھیارچی سے یا فریقین سے پوچھا جائے اور جو کچھ بھی ہوا یہ پیار بالجبر تھا یا بالرضا ابھی دونوں فریق عدالت گئے یہ فیصلہ عدالت کرے گی مگر اسلام میں جبر ہو یا رضا ہو دونوں صورتوں میں ناجائز ہے آئین میں مملکت اور ریاست سے عبارت وفاق اور چار اکائیاں سے ہے آئین نے وفاق اور صوبوں کے اختیارات کا تعین کیا ہے نہ صوبے وفاق کی کالونیاں ہیں اور نہ وفاق امریکہ کی کالونی ہے 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات حاصل ہے وفاق ان میں خلل نہیں ڈالے ورنہ یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی صوبے میں اپوزیشن یہ بتائے کہ بلوچستان میں جام کی حکومت ہے یا ان کو حکومت میں لانے والوں کی حکومت ہے یا کسی 18 یا 20 اور 22 گریڈ آفیسر کی حکومت ہے یہ وضاحت اپوزیشن کریں تو ان حالات میں حکومت لانے والوں کے گیٹ پر دھرنا ہونا چاہیے اپوزیشن کم سے کم اسمبلی میں ایک قرار داد لائے کہ 25 جولائی 2018 کا الیکشن دھاندلی زدہ اور جام کمال کی حکومت جعلی ہے لہذا دھاندلی کے خلاف متفقہ قرار داد لائے تاکہ نہ بانس رہے اور نہ بانسری ملک کے تمام مسائل مشکلات اور بحرانوں کا حل اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاز اور آئین وقانون کی بالادستی میں ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.