ملک میں کرونا وائرس کا سنجیدہ مسئلہ ہے ، بد قسمتی سے ابھی تک کوئی قومی پالیسی سامنے نہیں آسکی ہے ، شاہد خاقان عباسی

0

 اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کا سنجیدہ مسئلہ ہے ، بد قسمتی سے ابھی تک کوئی قومی پالیسی سامنے نہیں آسکی ہے ،ہم کوئی پوائنٹ سکورنگ نہیں کررہے، ایشو پر سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں ،ملک کو اکٹھا کرنے کی بجائے میڈیا کے ایک بڑے گروپ کے سربراہ کو گرفتار کرلیا گیا ،کیا نیب انتقام کا ادارہ ہے؟ یہ ایک سوچ ہے، کیا سیاسی انتقام سے لوگوں کو دبائینگے، میڈیا کو دبائینگے یا کورنا وائرس کا مقابلہ کریں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہاکہ ملک میں کرونا وائرس کا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے ابھی تک کوئی قومی پالیسی سامنے نہیں آسکی۔ انہوںنے کہاکہ صوبے کچھ کام کررہے ہیں مگر افسوس اس معاملے پر وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ خوشی ہے کہ آرمی چیف نے اس معاملے پر سیکورٹی کونسل کی میٹنگ بلالی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وائرس نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، اس معاملے پر صرف شدید تشویش ہے ۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ہم کوئی پوائنٹ سکورنگ نہیں کررہے، اس ایشو پر سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں ،یہ مسئلہ صرف حکومت یا اپوزیشن نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ بیماری چھپی رہتی ہے، ایسا نہ ہو کہ اس ایوان میں تیس سے چالیس لوگوں کو بہی ہوچکا ہو،بین الاقوامی شخصیات بھی اس وبا سے متاثر ہوئی ہیں۔  سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے اس پر توجہ مبذول نوٹس جمع کرایا تھا مگر وہ بھی ایجنڈے پر نہیں آیا۔کرونا وائرس کے معاملے پر دونوں ایوانوں کا فی الفور مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے،۔ حکومت کو کورونا وائرس کے حوالے سے جامع حکمت عملی سامنے لانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈین وزیراعظم کی اہلیہ کرونا وائرس کا شکار ہو سکتی ہے‘ یہ بیماری فوری ظاہر نہیں ہوتی‘ ممکن ہے کہ اس ایوان یں بھی کوئی اس کا شکار ہو۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عمرہ بند ہوگیا ہے، ایران میں 10 ہزار کیسز سامنے آگئے ہیں، سیاسی انتقام کی بجائے ہمیں مل جل کر اس مسئلے سے نمٹنا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ہم ملک کو اکٹھا کرنے کی بجائے میڈیا کے ایک بڑے گروپ کے سربراہ کو گرفتار کرلیا گیا ۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ کیا نیب انتقام کا ادارہ ہے؟ یہ ایک سوچ ہے، کیا سیاسی انتقام سے لوگوں کو دبائینگے، میڈیا کو دبائینگے یا کورنا وائرس کا مقابلہ کریں۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ بتاچکی کس پیمانے پر کس کو گرفتار کرنا ہے ،میر شکیل الرحمن کی گرفتاری سے پورا ملک پریشان ہے ،آزادی صحافت پر حکومت حملہ آور ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سابق وزیر اعظم راجہ پر ویز اشرف نے کہاکہ کرونا وائرس پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رہا ہے،ہماری حکومت صرف مشاہدہ کر رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم سے پہلے ترقی یافتہ ملکوں نے ایمرجنسی لگا دی ہے،پورے یورپ میں آمد و رفت روک دی گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ نے یورپین ممالک کے باشندوں پر پابندی لگا دی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہارورڈ یونیورسٹی میں بھی کرونا پھیل چکا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں فرنٹ فٹ پر آکر کوشش کرنی چاہئے تھی مگر ہم ناکام ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ سندھ کے تمام کیسز بیرون ملک سے آئے،ائیر پورٹ پر سکریننگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہسپتال اس وباء سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں،کیا وزیراعظم کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اٹلی کا پورا ملک جام ہو چکا ہے۔ انہوںنے کہاکہ خانہ کعبہ میں طواف بند کر دیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ جمعہ کے اجتماعات بھی بند کر دئیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایمرجنسی ڈکلیئر کرتے ہویے تمام ائر پورٹس کو کچھ عرصہ کے لیے بند کرنے کی ضرورت ہے ۔میر شکیل الرحمن کی گرفتاری پر راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ کسی نے جرم کیا ہے تو نیب ضرور پکڑے،مگر کسی کی تضحیک کے لئے گرفتاری نہ کی جائے۔ انہوںنے کہاکہ پریس گیلری خالی ہے ، پورا میڈیا احتجاج کررہا ہے ،حکومت نے شکیل الرحمان کوگرفتار کر کے نیا مسئلہ اٹھا دیا ہے۔ مولانا عبدالکبر چترالی نے کہاکہ کورونا کا مطلب ہے کہ اس کیلئے کچھ کرو نا، آپ اسی لئے بیٹھے ہیں جس پر اسپیکر نے کہاکہ آپ کوئی وظیفہ بتائیں۔مولانا عبدالکبر چترالی نے کہاکہ حدیث ہے کہ جہاں وبا پھیلے وہاں کے لوگ کہیں اور جائیں نہ وہاں کسی اور علاقے کے سفر کریں ۔ انہوںنے کہاکہ میرا بیٹا ووہان میں ہے اس لیے میں اپنے بیٹے کو یہان لانے کا مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی کسی ٹی وی شو میں مطالبہ کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ  مولانا چترالی نے کورونا سے بچاؤ کی دعا بتاتے ہوئے اسے اللہ کا عذاب قرار دیدیا۔ انہوںنے کہاکہ سورہ فاتحہ پڑھی جائے یہ سورہ شفا بھی ہے۔ انہوںنے کہاکہ 1 ارب 60 کروڑ افراد عبادات کرنے والے ہیں جبکہ 6 ارب لوگ اللہ کے باغی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ووہان میں جو لوگ کتے اور حرام چیزوں کا گوشت کھاتے تھے جس کی وجہ سے یہ بیماری پھیلی ۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ملک میں بھی کتوں اور گدھوں کا گوشت لوگوں کو کھلایا گیا جس کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔آغا حسن بلوچ نے کہاکہ کرونا وائرس سے متعلق پورے ملک میں احتیاطی تدابیر کی جا رہی ہیں،بلوچستان کی صوبائی حکومت خود وائرس پھلا رہی ہے،زائرین کو بارڈر سے لا کر کوئٹہ میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کوئٹہ شہر میں ہسپتالوں میں زائرین بھی رکھا جا رہا ہے،6 ہزار افراد کو کوئٹہ لایا جائے گا تو وائرس پورے ملک میں پھیلے گا۔ انہوںنے کہاکہ اگلے اجلاس میں ہم کوئٹہ سے جب اسلام آباد آئیں گے تو ہمارے ذریعہ وائرس قومی اسمبلی میں پہنچ جائے گا۔شہناز بلوچ نے کہاکہ حکومت بلوچستان کے چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں جائے،لوگ ایران بارڈر پر چوری چپکے بلوچستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آپ یہاں ٹی وی پر باتیں کر لیتے ہیں لیکن وہاں لوگوں کے پاس ٹی وی کی سہولیات نہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کو عملی اقدامات کی ضرورت ہے اعلانات کی نہیں،اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا جائے اور تمام عوامی نمائندے اپنے حلقوں میں جائیں اور عوام کو آگاہ کریں۔ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے کہاکہ جمعہ کے روز علما دعا کریں کہ کرونا سے ہمیں اللہ تعالیٰ نجات دے۔ انہوںنے کہا کہ لاہور ایئرپورٹ پر کرونا سکریننگ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس ڈینگی کو کنٹرول کرنے کی بڑی مثال موجود ہے،ہم نے ڈینگی کو کنٹرول کرنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کیا۔ انہوںنے کہاکہ کرونا پر کوئی پوائنٹ سکورنگ نہ کرے،دعائوں سے کام نہیں چلے، عملی کام کرنا پڑے گا۔راجہ خرم نواز نے کہاکہ پارلیمنٹ کے باہر بھی کرونا سکریننگ ہونی چاہیے،ایک بھی متاثرہ فرد پارلیمنٹ میں آگیا،تو کرونا یہاں پھیل جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں میڈیا کے زریعے کرونا کے حوالے سے کمپین کرنا ہوگی۔ سابق وزیر داخلہ اور (ن)لیگی رکن اسمبلی احسن اقبال نے کہاکہ کرونا اتنا بڑا خطرہ بن رہا ہے ،حکومت کا وزیر کہہ رہا ہے اپوزیشن خوف نہ پھیلائے ،کرونا وائرس پر متفقہ نیشنل ایکشن پلان بنایا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ ہاتھ ملانے گلے ملنے سے گریز کی تشہیر ی مہم چلائی جائے۔ انہوںنے کہاکہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں خطبات مختصر رکھے جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ شادیاں اسی طرح روٹین میں ہورہی ہیں،کے پی کے اور پنجاب میں کیا اقدامات کئے گئے؟۔انہوںنے کہاکہ دس مارچ کو کرونا وائرس پر ہمارے توجہ دلاو نوٹس نہیں لگایا گیا ،آج وزرا ء کالونی میں چھ فلیٹس خالی ہونے کا توجہ دلاو نوٹس ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا ہے ،ٹوئٹروں سے نہیں عمل سے حکومت چلتی ہے۔ ڈاکٹر نوشین حامد پارلیمانی سیکرٹری صحت نے بتایاکہ روزانہ کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے ،چار ہزار آٹھ سو پروازیں سکرین کی گئیں ،کل بارہ لاکھ لوگوں کی سکریننگ کی گئی ہے ،بتیس افراد کو مشکوک پایا گیا تھا ،تمام صوبوں کو ٹیسٹ کٹس فراہم کی جارہی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ پانچ جدید سکینر ایئرپورٹ پر لگا دیئے ہیں ،اپریل میں اپنی ٹیسٹ کٹس بنانے کے قابل ہوجائیں گے ،احتیاطی تدابیر کے لئے آگاہی مہم چلا رہے ہیں ،آگاہی مہم میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔نفیسہ شاہ نے کہاکہ کورونا نے چین اور امریکہ جیسی طاقتوں کو مفلوج کردیا ہے،ہم کہاں کھڑے ہیں، ہمیں جاگنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ اگر کوئی کہے کہ قدرتی آفت ہے تو یہ درست نہیں ہے،اس وقت اس ملک کو لیڈرشپ کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ دنیا کو کورونا اور ہماری حکومت کو کچھ نہ کرو کا وائرس ہوگیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اسکولز کو بند کریں، اجتماعات پر پابندی لگائیں۔علی وزیر نے کہاکہ ہم غریب ملک ہیں، ہمارے بہت سے لوگ روزگار کیلئے ملک سے باہر ہیں،باہر سے آنے والے تمام لوگوں کی کرونا سکریننگ کرنا ہوگی۔انہوںنے کہاکہ ہم میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہیں،میر شکیل الرحمن کی گرفتاری آزاد صحافت پر حملہ ہے،ہمارے بھی بہت سے لوگ اٹھائیے گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے لوگوں کو نہ پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی بتایا جا رہا ہے کہ وہ کہاں ہیں؟۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی سید امین الحق نے کہاکہ کرونا پر مشترکہ اجلاس بلایا جائے،کرونا پر سنجیدہ ردعمل کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ میر شکیل الرحمن کی گرفتاری آزادی صحافت پر حملے کے مترادف ہے۔پارلیمانی سیکرٹری ہوا بازی کیپٹن ریٹائرڈ جمیل نے کہاکہ سعودی عرب سے لوگوں کو لانے اور لے جانے کے لئے خصوصی پروازیں شروع کی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پی آئی اے اس حوالے سے حکومت کو بھرپور احساس ہے،سعودی عرب سے جو پاکستانی واپس آنا چاھتے ہیں ان کو لایا جائے گا۔شازیہ مری نے کہاکہ اب نہ گھبرانے سے کام نہیں چلے گا، اب گھبرانا پڑے گا،آپ کہتے ہیں کہ لوگوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتے،پریشانی دکھا کر لوگوں کو سنجیدہ کرنا پڑے گا،کرونا سکریننگ کی کا عمل مضبوط کرنا ہوگا۔بعد ازاں وزیرمملکت علی محمد خان کی درخواست پر ڈپٹی اسپیکر نے کرونا وائرس کے خدشہ کے پیش نظر اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا ،قومی اسمبلی کا اجلاس شیڈول کے تحت بیس مارچ تک جاری رہنا تھا۔وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان سے پوچھا گیا ہے انہوں نے بھی اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.