عراق، اغوا کی کارروائیوں نے خواتین کارکنان کو بھی لپیٹ میں لے لیا

0

بغداد: عراق میں سرگرم خاتون کارکن ماری محمد کے لا پتہ ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ وہ عراق میں جاری احتجاجی مظاہروں میں شریک رہیں اور انہوں نے دھرنا دینے والوں کی مدد کے حوالے سے شہرت پائی جو حکومت کے خاتمے اور ابتر معاشی حالات کی بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ٹویٹر پر سوشل میڈیا کے حلقوں نے بتایا ہے کہ ماری چار روز سے لا پتہ ہیں۔ وہ گذشتہ ماہ شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد لا پتہ ہونے والی دوسری خاتون کارکن ہیں۔اس سے قبل ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے والی کارکن صبا المہداوی بھی لا پتہ ہو چکی ہیں اور ان کے بارے میں کسی کو علم نہیں۔ انہیں دارالحکومت بغداد میں 2 نومبر کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق 3 گاڑیوں میں سوار نامعلوم مسلح افراد نے یہ کارروائی اس وقت کی جب صبا التحریر اسکوائر میں زخمی مظاہرین کو طبی امداد فراہم کر رہی تھیں۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ جمعے کے روز عراقی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ صبا المہداوی کے انجام کے بارے میں انکشاف کرے۔ تنظیم کے مطابق مذکورہ خاتون کارکن کا اغوا عراق میں ازادی اظہار کا گلا گھونٹنے کی مہم کا حصہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.