سید نذیرآغا ایڈووکیٹ نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

0

سید نذیرآغا ایڈووکیٹ نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

کو ئٹہ: ممتاز قانون دان اور سپریم کورٹ کے وکیل سید نذیرآغا ایڈووکیٹ نے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کردیاہے ۔ان کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ آئین کے آرٹیکلA 140/کے تحت ہر صوبہ بلدیاتی انتخابات کاپابند ہے بلکہ آئین کاآرٹیکل 32بھی ریاست میں لوکل گورنمنٹ کو انکریج کرتاہے ،اس وقت بلوچستان میں لوکل باڈیز کا نا ہونا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،موجودہ وزیراعظم پاکستان نے منتخب ہونے سے قبل عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد لوکل نظام کو بہتر کرنے سمیت بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کو بھی ممکن بنائیںگے لیکن ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود بھی بلدیاتی انتخابات کو ممکن نہیں ہوسکاہے اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر بھی احکامات جاری کئے تھے جس میں کہاگیاتھاکہ سپریم کورٹ کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ صوبوں کا خاص مسئلہ سوشیواکنامک نیچر کا ہے آئین کے آرٹیکل 140/A اور آرٹیکل 32 کے تحت تمام صوبائی حکومتیں پابند ہیں کہ وہ بلدیاتی نظام کے ذریعے انتظامی ،مالی اختیارات لوکل گورنمنٹ کے منتخب نمائندوں کو سپرد کریں،دائر کردہ آئینی درخواست میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ لوکل باڈیز کا صوبے میں امن وامان اور دیگر امور کی بہتری میں بھی کلیدی کردار ہے اس لئے عدالت عالیہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کریں کہ وہ جلد از جلد لوکل باڈیز کے انتخابات کاانعقاد عمل میں لائیں مذکورہ آئینی درخواست کی سماعت آج چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس عبداللہ بلوچ پرمشتمل بینچ کے روربرو مقرر ہے ۔درخواست میں چیف الیکشن کمشنر ،چیف سیکرٹری بلوچستان ،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور صوبائی الیکشن کمشنر کو فریق بنایاگیاہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.