پاکستان صرف ’’امن میں حصہ دار ہے‘‘ خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

پاکستان صرف ’’امن میں حصہ دار ہے‘‘ خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان صرف ’’امن میں حصہ دار ہے‘‘ خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،پاکستان اول دن سے کشیدگی کے خاتمے اور غلط فہمیوں کو دورکرنے کی کوششوں کا حامی رہا ہے،اختلافات کو پرامن طورپرحل اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں سہولت کاری کا کردار ادا کیاجائے،تمام فریقین سے انتہائی ضبط وتحمل کے مظاہرے، تنائو میں کمی کیلئے کشیدگی کا باعث بننے والا کوئی قدم نہ اٹھانے اور تعمیری انداز اپنانے پر زور دیا،امید ہے ہماری اجتماعی کوششیں وہ اثر دکھائیں گی جس سے متعلقہ فریقین کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کریں گے اور امن کے قیام کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں گے، ہمارے ملک اور خطے میں اس وقت تک حقیقی امن نہیں ہوسکتا جب تک افغان بھائی اور بہنیں افغانستان کے داخلی اور خارجی سطح پر امن سے ہمکنار نہیں ہوتے،ہماری معیشت کو اس سبب 150 ارب ڈالر کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑا، دہشتگردی کے خلاف جنگ کی بالواسطہ قیمت قومی معیشت کے شدید متاثر ہونے کی صورت اٹھائی جس کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگایاجاسکتا، افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں،افغانستان میں امن سے دونوں جانب بہتری آئے گی اور ہمارے بھرپور تاریخی تعلقات مزید تقویت پائیں گے، بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور جبرواستبداد اور بی جے پی حکومت کی مذہبی انتہاء پسندی و مذہبی نفرت ،خطے کی امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے،بھارت کے ساتھ امن کے لئے کوئی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں، ہم اپنی عزت پر کسی صورت سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی کشمیر کے تنازعہ کے حل کے بغیر ایسا ہوسکتا ہے،پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے مل کر غربت وافلاس سے لڑنا چاہئے،سی پیک پر شکوک وشبہات کے بجائے خطے میں امن کے حامیوں کو اس منصوبے کا خیرمقدم کرنا چاہئے ،پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعلقات کی اہمیت پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) میں پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے میں صدر ہیمرے کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جنوبی ایشیا اسٹڈیز کے حوالے سے عالمی سطح کے ادارے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں مجھے خطاب کی دعوت دی۔انہوںنے کہاکہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں یہاں معززین کی اس محفل میں شریک ہوں جس میں سکالرز اور رائے عامہ بنانے والے اور جانے پہچانی شخصیات موجود ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میں ایسے وقت میں امریکہ کے دورے پر ہوں جب علاقائی اور عالمی سطح پر ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوکںنے کہاکہ ہمارے مشرق اور مغرب میں اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق اور انسانی بحران مسلسل جاری ہے جہاں گزشتہ پانچ ماہ سے اسی لاکھ کشمیری غیرانسانی بندشوں اور قیدوبند کے مصائب کاسامنا کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ افغان امن و مفاہمتی عمل اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،اسی دوران ایران اور امریکہ کے مابین اچانک کشیدگی نے علاقائی وعالمی امن اور معیشت کے لئے خطرات پیدا کردئیے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس غیریقینی صورتحال میں ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری نہایت اہم ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں امید کے ساتھ اپنا نکتہ نظر پیش کررہا ہوں کہ خطے میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور ابھرتے ہوئے منظرنامے کیسے ہمارے دونوں ممالک کے اہم تعلقات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے انتخاب کا آج بنیادی محور اور موضوع امن اور ترقی کا فروغ ہے۔ انہوںنے کہاکہ امن وترقی کے درمیان لازمی تعلق داخلی اور خارجی سطح پر ہماری کوششوں کی بنیاد ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ خارجی پہلووں پر بات کرنے سے قبل میں اپنے دوستوں کو مختصرا آگاہ کرنا چاہوں گا کہ ہماری حکومت نے اگست2018ء میں ذمہ داری سنبھالی۔ انہوںنے کہاکہ اس عرصے میں وزیراعظم کی داخلی سطح پر اعلی ترین ترجیح معیشت کا استحکام، گورننس کی بہتری، کرپشن کا انسداد اور اکیس کروڑ سے زائد ہمارے عوام کی سماجی ومعاشی ترقی کے اہداف رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھرپور کوششوں کے نتیجے میں معاشی بہتری کا عمل پہلے ہی واضح دکھائی دے رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کلیدی اشارئیے بہتری دکھارہے ہیں، عالمی سطح پر ہماری درجہ بندی بہتر ہورہی ہے،پاکستان 2020ء میں سب سے زیادہ سیاحوں کے لئے پرکشش مقام اور منزل کے طورپر اجاگر ہورہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بدلتی حقیقت پاکستان کے تشخص کو بھی تبدیل کررہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ قومی ترقی کی اس کوشش کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں مستقل مدت کے لئے خارجی طورپر پرامن ماحول کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ اب میں خطے کی طرف آتا ہوں۔ اس وقت ایران ہر کسی کے ذہن میں گردش کررہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ درحقیقت امریکہ کا دورہ ایران اور سعودی عرب کے میرے حالیہ دوروں کے اگلے مرحلے کا حصہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے مجھے ہدایت کی ہے کہ تہران، ریاض اور واشنگٹن کے دارالحکومتوں میں پاکستان کا یہ پیغام پہنچائوں کہ پاکستان صرف ’’امن میں حصہ دار ہے۔‘‘ یہ خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں،ہمارا سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ آزمائش کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہمارے درمیان ایک دیرینہ روایت رہی ہے۔ ہماری حکومت کے ابتدائی دنوں میں معاشی مشکلات سے نمٹنے میں ہمیں جو مدد ملی، اس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اسی طرح ایران ایک قریبی دوست اور ہمسایہ ہے۔ طویل سرحد، تاریخی اور ثقافتی روابط دونوں ممالک میں ایک رشتہ استوار کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آپ شاید اس امر سے آگاہ نہ ہوں کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے انقلاب ایران کے بعد امریکہ میں ایرانی مفادات کی بھی دیکھ بھال کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جنگ یا فوجی تصادم کے نتیجے میں سلامتی اور معاشی خطرات کا گہرائی سے ادراک کرتے ہوئے پاکستان اول دن سے کشیدگی کے خاتمے اور غلط فہمیوں کو دورکرنے کی کوششوں کا حامی رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ستمبر میں متعلقہ ممالک کی قیادت سے رابطوں کا اقدام کیا تاکہ اختلافات کو پرامن طورپرحل کیاجائے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں سہولت کاری کا کردار ادا کیاجائے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان ،امریکہ اور ایران کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے اشاروں کا خیرمقدم کرتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں سفارت کاری کی گنجائش ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس گنجائش سے بھرپور استفادہ کیاجائے۔ اپنی حالیہ ملاقاتوں میں، میں نے تمام فریقین سے انتہائی ضبط وتحمل کے مظاہرے، تنائو میں کمی کے لئے کشیدگی کا باعث بننے والا کوئی قدم نہ اٹھانے اور تعمیری انداز اپنانے پر زور دیا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ ہماری اجتماعی کوششیں وہ اثر دکھائیں گی جس سے متعلقہ فریقین کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ کشیدگی کے خاتمے کا اعلان کریں گے اور امن کے قیام کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔انہوںنے کہاکہ موجودہ نازک صورتحال میں پوری دنیا کی اولین خواہش امن کے لئے امید ہے۔افغانستان کی صورتحال سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ ہمارے ملک اور خطے میں اس وقت تک حقیقی امن نہیں ہوسکتا جب تک افغان بھائی اور بہنیں افغانستان کے داخلی اور خارجی سطح پر امن سے ہمکنار نہیں ہوتے۔ انہوںنے کہاکہ ہم اس حقیقت سے اس لئے آگاہ ہیں کہ ہمارے لوگوں نے افغان عوام کے ہمراہ اس تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کیا ہے۔ یاد رہے کہ افغان مسئلے کا سامنا ہمیں 11 ستمبر2001 کی صبح سے نہیں بلکہ یہ معاملہ دسمبر1979ء میں افغانستان میں سویت فوج کے پہلے دستے کے داخل ہونے سے شروع ہوا تھا۔ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا تھاجب پچاس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان کے اندر عدم استحکام اور تنازعہ سے پاکستان کے لوگ متاثر ہوتے چلے آرہے ہیں۔ اب اس امر کو 40 سال ہوچکے ہیں اور اب یہ سلسلہ جاری ہے،اس تناظر میں یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد کی یہ ہماری نصف سے زائد زندگی ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں یہ اضافہ بھی کرنا چاہوں گا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بے مثال قربانیاں دیں اور سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں سمیت 70 ہزار پاکستانی شہید ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری معیشت کو اس سبب 150 ارب ڈالر کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بالواسطہ قیمت قومی معیشت کے شدید متاثر ہونے کی صورت اٹھائی جس کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگایاجاسکتا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور امریکہ دونوں نے بہت خون بہایا اور اپنے قیمتی وسائل خرچ کئے ہیں، ہم اپنے شہید سپاہیوں اور شہریوں کو اعزاز کے ساتھ یاد کرتے ہیں جنہوںنے کامیابی سے افغانستان میں مشن مکمل کیا۔ پاکستان طویل عرصہ سے دلیل دیتا آیا ہے کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں۔ وزیراعظم عمران خان ان اولین رہنمائوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ہمیشہ افغانستان میں امن کا راستہ سیاسی بات چیت کو قرار دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ ہم صدر ٹرمپ کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں جو انہوں نے افغانستان میں سیاسی تصفیہ کے فروغ کے لئے اٹھایا ہے۔ انہوںنے کہاکہ افغان امن عمل بشمول امریکہ طالبان مذاکرات میں سہولت کاری کے پاکستان کے مثبت کردار کا عالمی سطح پر اعتراف ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ امید پیدا ہوچکی ہے کہ 2020افغانستان میں امن کا سال ہوگا۔ ہم نے اگرچہ اس ضمن میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تحمل کے ساتھ ساتھ اس عمل کی حفاظت ناگزیر ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ افغانستان میں امن ایک اجتماعی ذمہ داری ہے،پاکستان کردار ادا کررہا ہے اور کرتا رہے گا لیکن تن تنہا وہ سب کچھ نہیں کرسکتا، سب کو مل کر یہ کرنا ہوگا،عالمی برادری اور اہم علاقائی کھلاڑیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ’’شرپسندوں‘‘ سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔ افسوسناک امریہ ہے کہ خطے میں سب کے سب ایسے ممالک نہیں جو افغانستان میں امن دیکھنے کے حق میں ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ہم افغانستان میں امن کے لئے مخلصانہ کام کررہے ہیں لیکن ہمیں ’’تنازعہ کے بعد‘‘ کے مرحلے پر بھی اپنی بھرپورتوجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کو امید ہے کہ اچانک ایسا کوئی عمل نہیں ہوگا اور عالمی افواج کی واپسی مرحلہ وار اور منظم انداز میں ہوگی، 1980ء کی غلطیاں دہرانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوںنے کہاکہ تعمیر نو اور پائیدار ترقی کے لئے مستقل عالمی رابطہ کلیدی ہوگا،اس سے ایسا ماحول بھی پیدا ہوگا جس میں افغان مہاجرین عزت وآبرو کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو جاسکیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ امریکہ اور ہمارے دیگر شراکت دار پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں گے جیساکہ ہم نے اپنے سابقہ قبائلی علاقوں کو مرکزی سیاسی دھارے میں شامل کیا اور معاشی بہتری سامنے آئی ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے بعد معاشی سرگرمیوں سے دونوں اطراف کو فائدہ ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کی ایک اور ناگزیر ضرورت یہ بھی ہے کہ طویل عرصہ تک پاکستان اور امریکہ کے تعلقات افغان مسئلہ کے یرغمال رہے ہیں۔ ہم ایک مددگار فریم ورک کے ذریعے اس صورتحال میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نہایت اہم ہیں اور ان کی صلاحیت کا دائرہ اس قدر وسیع ہے جو محض افغانستان کے پہلو تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔ انہوکںنے کہاکہ افغانستان میں امن سے دونوں جانب بہتری آئے گی اور ہمارے بھرپور تاریخی تعلقات مزید تقویت پائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ خطے کی موجودہ صورتحال، امن کے قیام کیلئے ایک مزید بڑا چیلنج بن رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ خاص طورپر تین جنوری کے بعد کی صورتحال کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایسا طریقہ اپنایا جائے کہ افغانستان میں امن عمل پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔انہوںنے کہاکہ اس ضمن میں صورتحال کو خراب کرنے والے کے لئے زیروٹالرنس ہونی چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ ’’پرامن ہمسائیگی‘‘ کی سوچ کا اظہار کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جولائی 2018ء میں انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے بھارت سے وعدہ کیا کہ ’’اگر آپ امن کے لئے ایک قدم اٹھائیں گے تو پاکستان دو قدم اٹھائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا وعدہ نبھایا ہے اور تاریخی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان تلخی پر مبنی تعلقات میں بہتری کے لئے متعدد کوششیں کی ہیں۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے بھارت نے ہر مثبت قدم کا جواب منفی رویے سے دیا ہے، ڈھٹائی، تکبر اور سب سے بڑھ کر بھارت کے اندر انتخابات میں سیاسی فائدے کو پیش نظر رکھتے ہوئے الگ رویہ اپنایاگیا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان مخالف اور قومیت کے جذبات بھڑکا کر انتخابات جیتے گئے۔ بھارت نے فروری میں دونوں ممالک کوتقریبا جنگ میں دھکیل دیاتھا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے تحمل اور وزیراعظم عمران خان کے مدبرانہ روئیے کے سبب جنگ کے دھانے سے دونوں ممالک واپس آئے،وزیراعظم نے گرفتار بھارتی پائلٹ واپس کردیا۔ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے بی جے پی کی حکومت نے امن کے لئے ہماری خواہش اور عزم کو ہماری کمزوری کی علامت سمجھا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں امید تھی کہ بھارتی انتخابات کے بعد بی جے پی کی حکومت بلوغت کا مظاہرہ کریگی، وہ یہ ادراک کرے گی کہ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے مل کر غربت وافلاس سے لڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اس کے برعکس آر ایس ایس سوچ کے زیر اثر بی جے پی حکومت نے بھارت کو ہندوراشٹرا میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا۔ انہوںنے کہاکہ ’’ہندتوا‘‘ اور ’’اکھنڈبھارت‘‘ کے پرچار اور اس پر کاربند ہونے کے تباہ کن نتائج نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں سامنے آرہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پانچ اگست کو بھارت نے جموں وکشمیر کی ’’متنازعہ حیثیت‘‘ اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور تمام عالمی ضابطوں، قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام قراردوں کو پس پشت ڈال دیا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کشمیریوں کو ان کے گھروں میں قید کرکے اور آج کے دن تک جاری کمیونیکیشنز بندشوں سے، ان کے عزم کو توڑنا چاہتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہزاروں کشمیری خاص طورپر نوجوانوں کو قید کیاگیا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔ یہاں تک کہ 9سال کے کم سن بچے بھی بھارتی ظلم وبربریت سے محفوظ نہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ یہ بھارتی دعویٰ کہ کشمیر بھارت کا ’’داخلی معاملہ‘‘ ہے اس حقیقت سے غلط ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ تنازعہ آج بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر ایسا معاملہ نہیں ہوتا تو فرانس کے صدر، اس معاملہ کو بھارتی وزیراعظم کے ساتھ کیوں اٹھاتے۔ کشمیر میں ’’معاشی ترقی‘‘ کے بھارتی دعوے کو بھی دنیا نے مسترد کردیا ہے، یہ جھوٹ عالمی دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ کشمیریوں کی معاشی ترقی 9 لاکھ قابض بھارتی افواج بندوق کے ذریعے دے رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر کے بحران کا حل نہ کیاگیا تو اس کا نتیجہ سٹرٹیجک صلاحیت رکھنے والے دو ممالک کے درمیان فلیش پوائنٹ کی صورت سامنے آسکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگست میں کشمیر کا بحران شروع ہوا تو وزیراعظم نے خبردار کیاتھا کہ بی جے پی کی حکومت آرایس ایس سے جڑی ہوئی ہے اور وہ ان کی ‘‘فسطائی‘‘ سوچ پر کاربند ہے۔ انہوںنے کہاکہ شروع میں ہمارے کچھ دوستوں نے محسوس کیا کہ ہم بڑھاچڑھا کر معاملہ پیش کررہے ہیں، آج وزیراعظم عمران خان نے جن عوامل سے خبردار کیاتھا، بھارت کے اندر ہونے والے واقعات ان کی کہی ہوئی ایک ایک بات کو سچ ثابت کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مودی حکومت نے جو نقاب اوڑھ رکھا تھا، دنیا اب اس کی حقیقت جان چکی ہے۔ مودی حکومت دنیا بھرمیں بے نقاب ہوچکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کسی ’’جمہوریت‘‘ میں نافذ کردہ قدغنوں میں طویل ترین ہے۔ لیکن کیا آج واقعی ایک ’’جمہوریت‘‘ ہے؟ ۔انہوںنے کہاکہ بھارت میں شہریت (سی اے اے ) اور شہریوں کا نیشنل رجسٹر (این آر سی) جیسے قوانین بھارت بنانے والوں کے جمہوریت اور سیکولرازم جیسے اصولوں پر بنیادی سوالات اٹھارہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان رویے اور سوچ کا فرق اس عمل سے واضح ہوجاتا ہے کہ جب بھارتی سپریم کورٹ 1992ء میں گرائی جانے والی تاریخی مسجد کی ایودھیا میں جگہ ہندو مذہبی انتہاء پسندوں کو دے رہی تھی تو پاکستان ، بھارت اورپوری دنیا سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لئے کرتارپورراہداری کا افتتاح کر رہا تھا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور جبرواستبداد اور بی جے پی حکومت کی مذہبی انتہاء پسندی و مذہبی نفرت ،خطے کی امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارتی حکومت اپنے داخلی مسائل کو خارجی رنگ دینے کی تاریخ رکھتی ہے۔ آپ پلوامہ واقع کو ذہن میں لائیں۔ یہ واقعہ گزشتہ برس بھارتی انتخابات کے موقع پر رچایاگیا۔ بھارت نے سفید جھوٹ بول بول کر عالمی برادری کو گمراہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں خدشہ ہے کہ ایک بار پھر ہم ایسے ہی بحران تک جارہے ہیں۔ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی بھارتی سیاست دان یا فوجی اہلکار پاکستان کو ملفوف دھمکی دے دیتا ہے۔ اسی اثناء میں ہم نے بھارتی پولیس افسر دویندر سنگھ کی گرفتاری کی خبریں دیکھی ہیں جس سے ’’دہشت گردی‘‘ کے بڑے حملوں میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، یہ دہشت گری خود کرواتے ہیں اور پھر ملبہ پاکستان پر گرا دیتے۔ دویندر سنگھ، دو ’’عسکریت پسندون‘‘کے ہمراہ دہلی جارہا تھا، ری پبلک ڈے تقریبات سے مماثلت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتی ہے۔ ہمیں امن کی ضرورت ہے تاکہ معاشی اصلاحات اور ترقی کے داخلی ایجنڈے کو پورا کرسکیں لیکن ہم بھارت کے ساتھ امن کے لئے کوئی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں، ہم اپنی عزت پر کسی صورت سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی کشمیر کے تنازعہ کے حل کے بغیر ایسا ہوسکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ کشمیر کی صورتحال پر متفکر ہیں اور ہم کشمیر تنازعہ حل کرانے کے لئے ثالثی کی ان کی متعدد بار کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ امریکہ کے پاس وہ صلاحیت واختیار موجود ہے کہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر طویل ترین عرصہ سے زیرالتواء کشمیر کے مسئلے کو حل کرانے میں کردارادا کرسکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ جولائی میں صدر ٹرمپ کو بتایا تھا کہ اگر وہ اس مسئلے پر ثالثی کرائیں گے تو جنوبی ایشیاء کے خطے کے دو ارب لوگ انہیں دعائیں دیں گے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ صدرٹرمپ اس ضمن میں عملی اقدام کرنے میں کامیاب ہوں گے اور جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لئے اپنا حصہ ڈالیں گے۔ انہوںنے کہاکہ یہ ان کا ہمیشہ یاد رکھاجانے والا ورثہ بن جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ دوطرفہ پاکستان امریکہ تعلقات دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں رہے ہیں۔ ہم اکثر امریکی حکام کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ ’’پاکستان کو امریکہ کے ساتھ کام کرکے بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔‘‘انہوںنے کہاکہ بلاشبہ یہ سچ ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ کو بھی پاکستان کے ساتھ کام کرکے بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔ ہمارے تعلقات کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم امریکی امداد کو سراہتے ہیں جو تاریخی طورپر ہمیں زراعت، توانائی، دفاع اور تعلیم سمیت مختلف شعبہ جات میں فراہم کی گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ نے 1950ء اور 1960ء کے دوران ہماری دفاعی صلاحیت بڑھانے اور زراعی بنیاد استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن پاکستان نے بھی سردجنگ کے دوران امریکہ کی اتنی بڑی مدد کی ہے جسے شمار نہیں کیاجاسکتا۔ پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات استوارکرنے میں سہولت کاری کی، اسکے نتیجے میں امریکہ کا جو فائدہ ہوا ہے، اس کو شمار نہیں کیاجاسکتا۔ یہ وہ مرحلہ تھا کہ ’’فری ورلڈ‘‘ کی حمایت میں توازن تبدیل ہوگیا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کامیابی حاصل نہ کرپاتا اگر امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری مدد نہ کرتا لیکن اسی طرح القاعدہ کا قلع قمع نہ ہوتا اگر پاکستان القاعدہ کی قیادت اور اس کے جھتوں کے خلاف مہم میں ساتھ نہ دیتا۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان میں امن اور مجموعی پیش رفت سے متعلق ہماری مشترکہ الجھنوں کے باوجود ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ امریکہ پر حملہ کرنے والی دہشت گرد تنظیم کا قلع قمع کیاجاچکا ہے۔ یہ ہماری مشترکہ کامیابی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کا خواہاں ہے جو باہمی احترام، باہمی مفاد اور باہمی دلچسپی پر مبنی ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ہم افغانستان میں امن کے قیام اور جنگ کے بعد خطے میں سکیورٹی کی بہتری کے لئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے لیکن اس کے باوجود ہمارا تعلق افغانستان اور انسداد دہشت گردی سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں اس پر بھی تشویش ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو آج کی جیوپولیٹیکس کے تناظر میں زیادہ تر دیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات اتنے ہی پرانے ہیں جس قدر ہمارے امریکہ کے ساتھ تعلقات پرانے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو ’’گریٹ پاور کمپیٹیشن‘‘ کے مقبول فریم ورک کے اندر دباو میں لانے سے حقیقی صورتحال خراب ہوتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ طویل عرصہ تک علاقائی معیشتوں کے باہمی منسلک نہ ہونے کو ہم کوستے رہے ہیں۔ اب سی پیک کی شکل میں ہمارے پاس منصوبہ ہے جو پاکستان کے معاشی ترقی کے اہداف کو پورا کرسکتا ہے اور ساوتھ وسینٹرل ایشیاء میں معاشی یکجائی کے لئے مہمیز کا کام کرسکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ سی پیک پر شکوک وشبہات کے بجائے خطے میں امن کے حامیوں کو اس منصوبے کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعلقات کی اہمیت پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی۔ افغانستان میں امن کے قیام اور جنوبی ایشیاء میں امن وسلامتی برقرار رکھنے، باہمی مفاد میں تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق تعلقات میں ہماری سٹرٹیجک سوچ ملتی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان بیس کروڑ سے زائد لوگوں کاملک ہے جن میں دوتہائی30 سال سے کم عمر کے شہری ہیں۔ ہم چین، ساوتھ اور سینٹرل ایشیاء کے سنگم پر بیٹھے ہیں۔ پاکستان تین ارب سے زیادہ کی مارکیٹ کا محور ہے۔ یہاں بے پناہ معاشی صلاحیت موجود ہے۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور بیرونی ملک سے محاصل کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع میں مزید اضافہ کے خواہاں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کی جولائی میں واشنگٹن میں جب ملاقات ہوئی تھی تو دونوں رہنماوں نے تجارت میں بیس فیصد اضافہ کی بات کی تھی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کو توانائی کی قلت کا سامنا ہے۔ امریکہ ایک بڑے انرجی سپلائر کی صورت ابھررہا ہے۔ یہ نئی جہت ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اشتراک عمل کی مزید گنجائش پیدا کررہی ہے۔انہوںنے کہاکہ دس لاکھ سے زائد پاکستانی امریکن دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کام کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانی امریکن شہریوں نے اپنے پیشہ وارانہ محاذوں پر بہت نام اور مقام کمایا ہے۔ ایک اور خوش آئند پہلو اس مرتبہ میں نے یہ بھی دیکھاہے کہ بہت سارے نوجوان پاکستانی امریکن سیاسی طورپر فعال ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایک سیاستدان کے طورپر میں ہمیشہ نوجوانون کو آگے بڑھتا دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہوں۔عوامی فلاح وبہبود کا جذبہ رکھنے والے نوجوان، پاکستانی امریکی شہریوں کا جمہوری عمل میں شریک ہونا باعث_مسرت ہے اور ان اقدار کی یاد دلاتی ہے جو ان کی مختلف شناختوں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اقدار کی یہی مشترک صفت ہے جو آخرکار ایک مضبوط تعلق کو استوار کرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ دوست قیمتی متاع ہوتے ہیں۔ پرانے دوستوں سے محض اس بنیاد پر منہ نہیں موڑا جاتا کہ نئے دوست بنالئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں اس بات پر زوردوں گاکہ سکیورٹی، استحکام اور خوشحالی کے یکساں اہداف کے حصول میں پاکستان اور امریکہ مل کر کام کرکے بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میں آپ سب کی توجہ کے لئے شکرگزار ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں