سی پیک کیساتھ ہماری معاشی ترقی جڑی ہوئی ہے ، منصوبے سے پورے خطے کا فائدہ ہو گا،وزیر خارجہ

0

 بیجنگ (این این آئی)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ سی پیک کیساتھ ہماری معاشی ترقی جڑی ہوئی ہے ، منصوبے سے پورے خطے کا فائدہ ہو گا، دونوں ممالک کی قیادت منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پر عزم ہے ،جیسے جیسے ہم کرونا وائرس کے چیلنج سے باہر آتے جائیں گے ویسے ویسے سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل ہوتی چلی جائے گی،ہم چین کی مدد سے اپنے زرعی شعبے میں فی ایکڑ پیداوار کو کیسے بڑھا سکتے ہیں،افغان امن عمل ہو،خطے میں امن و استحکام کی بات ہو ہم ایک دوسرے کے ساتھ باہمی مشاورت اور تعاون کو جاری رکھے ہوئے ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر جس تک چین نے پاکستان کے موقف کی تائید اور حمایت کی ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے تعلقات کتنے گہرے ہیں۔ منگل وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بیجنگ میں پاک چین لازوال دوستی اور اپنے دورہ چین کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہاکہ تاریخ شاہد ہے کہ زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ہو، چین کی قیادت اور عوام ہر آڑے وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی ہے آج چین پر کرونا وائرس کی صورت میں کڑا وقت آیا ہے تو ہم پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی عوام کی طرف سے اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کیلئے آئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ چین نے جس طرح کرونا جیسے چیلنج کا سامنا کیا ہے اور جس نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ انہوںنے کہاکہ ہزاروں لوگ کرونا سے متاثر ہوئے لیکن کمال قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا ، دنوں میں ہسپتال کھڑے کر لیے گئے اور آج چین نے تقریباً اس وبا پر غلبہ پا لیا  ہے وہ صوبہ جہاں وبا کا تناسب بہت زیادہ تھا وہاں آج صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے اور پورے چین میں اکیس کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سی پیک کے ساتھ ہماری معاشی ترقی جڑی ہوئی ہے اور اس منصوبے سے پورے خطے کا فائدہ ہو گا دونوں ممالک کی قیادت ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پر عزم ہے جیسے جیسے ہم کرونا وائرس کے چیلنج سے باہر آتے جائیں گے ویسے ویسے سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل ہوتی چلی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات مثالی ہیں،پاک چین دوستی کی مثال دنیا دیتی چلی آ رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں یہ ہمارا چین کا، چوتھا اعلی سطحی دورہ ہے یہیں سے آپ اندازہ لگا لیں کہ ہمارے تعلقات کتنے ٹھوس اور گہرے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ معاشی میدان ہو، دو طرفہ تجارت ہو، غربت کے خاتمے اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ افغان امن عمل ہو،خطے میں امن و استحکام کی بات ہو ہم ایک دوسرے کے ساتھ باہمی مشاورت اور تعاون کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر جس تک چین نے پاکستان کے موقف کی تائید اور حمایت کی ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے تعلقات کتنے گہرے ہیں۔انہوںنے کہاکہ چین، کی صورت حال کافی بدل چکی ہے چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور جس رفتار سے یہ ترقی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند سالوں میں یہ یہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے طور پر سامنے آئے گا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان بہترین دو طرفہ تعلقات موجود ہیں ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنے دو طرفہ سیاسی تعلقات کو  خطے کی بہتری اور استحکام کے لئے کیسے بروئے کار لا سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم چین کی مدد سے اپنے زرعی شعبے میں فی ایکڑ پیداوار کو کیسے بڑھا سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم چین سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں صنعتکاری اور انفراسٹرکچر کو کیسے فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم چین کے ساتھ مل کر افغان امن عمل جیسے مشترکہ مقاصد میں کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں اور علاقائی امن کے خواب کو کیسے شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں ،ہم پاک چین دوستی کو خطے میں خوشحالی کے پیغام کے طور پر سامنے لانا چاہتے ہیں اور یہ باہمی دورے اس سلسلے میں معاون ثابت ہوں گے ۔ انہوںنے کہاکہ 2021 میں ہم پاک چین دوستی کے ستر سالہ جشن کو پورے جوش و خروش سے منانے کا عزم رکھتے ہیں خدا کرے کہ  ہم اس وقت تک کرونا وائرس جیسے چیلنج سے بخیرو عافیت باہر آ جائیں اور اپنے لوگوں کو اس وقتی چیلنج سے محفوظ بنا سکیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.