الزام تراشیاں نوول کرونا وائرس کا غلط اور نقصان دہ علاج ہیں ، چینی سفیر

0

ڈبلن: الزام تراشیاں نوول کروناوائرس کا ایک غلط اور نقصان دہ علاج ہے اور اس عالمی وبا کے خلاف جنگ میں لوگوں کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گی، یہ بات آئر لینڈ میں چینی سفیر ہی شیانگ ڈونگ نے یہاں ہفتہ کے روز بتائی ہے ۔انگریزی اخبار آئرش انڈی پینڈینٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں انہوں نے کہا ہے کہ طاعون اور وبائی امراض نے انسانیت کو اس کی بقا کی پوری تاریخ کے دوران تباہی سے دو چار کیا ہے اور بیکٹریا ،وائرس اور پیراسائٹ کی وجہ سے زہریلے متعدی امراض سے زیادہ کسی دیگر چیز نے اتنے زیادہ انسانوں کو ہلاک نہیں کیا ۔سفیر نے لکھا ہے کہ جب کوئی بڑی وبا ہوتی ہے تو اس بارے بد صورت الزام تراشیاں بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بلیک ڈیتھ کے دوران یہودی لوگوں پر حملے کئے گئے اور یورپ بھر میں ان کو قتل کیا گیا تھا کیونکہ ان پر اسی مرض کا الزام عائد کیا جاتا تھا اور یہ کہ آئرش تارکین وطن کو آئرش بخار کی وجہ سے حملوں کا نشانہ بنایا گیا جب 1847 میں برطانیہ میں اس قسم کا وبائی مرض پھیلا ہوا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اب نوول کرونا وائرس مرض کی وجہ سے وہی پرانی الزام تراشیوں کا حربہ بدقسمتی سے ایک بار پھر واپس آیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ چین کو وبائی مرض کا مورد الزام ٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسا کہ سیلاب کی پہلی لہر کی زد میں آنے والے پہلے شخص کو سیلاب کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے ۔کسی بھی ملک کو اس نئے وائرس نے اتنی اچانک اور بغیر تیار ی کے اپنی لپیٹ میں نہیں لیا تھا جتنا کہ اس نے چین کو اچانک آلیا تھا ۔ اس غیر معمولی چیلنج کے باوجود چین نے فوری طور پر اور فیصلہ کن انداز میں اپنا ردعمل دیا ۔ انہوں نے واضح کہا کہ جنوری میں چین نے ووہان میں لاک ڈان کیا ،ایک ایسا شہر جس کی آبادی 1 کروڑ ہے اور پھر اس کے بعد پورے صوبہ ہوبے میں لاک ڈان کیا گیا جس سے دنیا بھر کو اس وبائی مرض کی شدت کے بارے میں بہت واضح اور مضبوط انتباہی پیغام بھیجاگیا تھا۔انہوں نے نشان دہی کی ہے کہ ووہان اور ہوبے سے دور واقع ملکوں میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کا الزام چین پر عائد کرنا سیاسی طور پر ترغیب دی گئی بکواس ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو اس جنگ میں ذمہ دار ٹھہرانے کی ضرورت ہے تو وہ چین نہیں ہو سکتا بلکہ وہ لوگ ہیں جو سیاسی وائرس کے قطرے گراتے ہوئے اپنی غلطیوں کو اور ذمہ داریوں کو چھپا رہے ہیں اور لوگوں کی مشکلات سے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ ہم مستقبل کی بحا لی کے لئے کام کررہے ہیں ہمیں ان سیاسی وائرسز سے بھی بچنا ہے جو ضروری عالمی ردعمل کو گمراہ کرکے اس کو تاخیر سے دوچار کررہے ہیں، بصورت دیگر ہم کہیں کہ نہیں رہیں گے بلکہ گہرے گٹر میں جاگریں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.