امریکہ رواں ہفتے عراق میں تین اہم اڈوں سے اپنی فوج کو واپس بلا لے گا

0

بغداد(این این آئی)آئندہ چند ہفتوں میں امریکہ عراق میں القائم فوجی اڈے اور دیگر دو اہم اڈوں سے اپنی فوج کو نکال رہا ہے۔اپنے آٹھ میں سے تین فوجی اڈوں کو بند کرنے کے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے امریکہ عراق میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر کمی لانے کا خواہاں ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب عراقی حکومت اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے۔میڈیاروپرٹس کے مطابق رواں ہفتے القائم فوجی اڈے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں باضابطہ طور پر امریکی حکام ساز و سامان سمیت اڈے کو عراقی فوج کے حوالے کریں گے۔اس کے ساتھ ہی عراق میں شامی سرحد پر تمام تر امریکی موجودگی ختم ہو جائے گی۔پی ایم ایف کے بغداد میں صدر دفتر میں ایک انٹرویو کے دوران ابو آمنے نامی کاتب حزب اللہ کے ایک کمانڈر نے ہمیں بتایا کہ اگر وہ جانا نہیں چاہتے تو ہم انھیں جانے پر مجبور کر دیں گے۔ایک سنیئر امریکی دفاعی اہلکار نے بتایا کہ کاتب حزب اللہ کی القائم فوجی اڈے کے قریب موجودگی اس فیصلے میں ایک اہم عنصر تھا۔امریکہ قیارہ ایئر فیلڈ ویسٹ اور کرکک اڈے بھی خالی کرنے والا ہے۔ قیارہ فوجی اڈے کے ذریعے دولتِ اسلامیہ سے موصل واپس لینے کے لیے امریکی اتحادی آپریشن کیا گیا تھا۔ ان دونوں اڈوں پر گذشتہ کچھ ماہ میں راکٹ حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں ایک امریکی کانٹریکٹر بھی ہلاک ہوا تھا۔اس حملے کی ذمہ داری کاتب حزب اللہ پر ڈالی گئی تھی اور اس کے بعد گروہ کے عراق اور شام دونوں ممالک میں صدر دفاتر پر امریکی کارروائیوں میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.