کورونا وائرس،ملک میں کیمبرج سمیت تمام امتحانات یکم جون تک ملتوی کر دیئے گئے

0

اسلام آباد(این این آئی)ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب حکومت نے ملک میں یکم جون تک کوئی امتحان نہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے ، کیمبرج، پیئرسن اور بیکولوریا سمیت تمام غیر ملکی بورڈز بھی حکومتی ہدایات کے پابند ہوں گے۔ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ اس بیماری کاخطرناک پہلو ملنے جلنے سے پھیلنا ہے جس کے باعث ساری دنیا میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے پر زور دیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل تمام تعلیمی اداروں کا 5 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ،صورتحال کو دیکھ کر اقدامات اور فیصلے کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ صوبوں سے مشاورت کے لیے بین الوزارتی کانفرنس بنائی گئی ہے اور اس چیلنج کے پیش نظر 27 مارچ کو کانفرنس کا انعقاد کر کے حالات کا جائزہ لے کر اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ تعلیمی ادارے کھول دینے چاہیے یا نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک بھی وزرائے تعلیم، سیکریٹریز اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کی گئی اور امتحانات کے معاملے پر غور کر کے فیصلے کیے گئے جن سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یکم جون تک پاکستان میں جتنے امتحانات منعقد ہونے ہیں وہ نہیں ہوں گے جس میں مختلف جماعتوں، تمام بورڈز کے میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے ساتھ ساتھ کیمبرج اسکول سسٹم کے امتحانات بھی نہیں ہوں گے جبکہ دیگرغیر ملکی اداروں مثلاً پیئرسن، بیکیلوریا وغیرہ کے امتحان بھی منعقد نہیں کیے جائیں گے۔وزیر تعلیم نے بتایا کہ اسکولوں کو کھولنے کے معاملے کو امتحانات سے اس لیے علیحدہ کیا گیا کہ امتحانات کے لیے تیاری درکار ہوتی ہے جس کے بچوں کو معلوم ہونا ضروری ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔شفقت محمود نے کہا کہ امتحانات سے متعلق ہدایات سے اب کو مطلع کردیا گیا ہے اور تمام غیر ملکی بورڈ حکومت کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حالات بہتر ہونے پر یکم جون کے بعد امتحانات منعقد کیے جاسکتے ہیں اور مختلف بورڈز یکم جون سے 15 جولائی کے درمیان مختلف تواریخ میں امتحان لے سکتے ہیں۔وزیر تعلیم نے بتایاکہ کیمبرج کے امتحانات ملتوی نہیں ہوتے بلکہ ان کا دوسرا دور اکتوبر نومبر میں ہوتا ہے، اس سلسلے میں نے کیمبرج سے درخواست کیے ہے کہ عالمی وبا کی صورتحال پیش نظر ملتوی ہونے والے جون جولائی میں لے لیے جائیں تاہم اس کا فیصلہ کیمبرج ہی کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ یکم سے 15 جون تک بورڈز امتحانات لیے جائیں گے لہٰذا ہم نے جامعات سے داخلے کے نظام کو ایک ماہ تک موخر کرنے کا کہا ہے تا کہ اس وقت تک ان امتحانات کے نتائج آجائیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ کیمبرج امتحانات کا دوسرا دور اکتوبر نومبر میں ہوتا ہے اس لیے انہوں نے مئی میں ملتوی شدہ امتحانات بعد میں لینے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔وزیر تعلیم نے کہا بین الاوزارتی اجلاس میں امتحانات ملتوی ہونے کے باعث جامعات میں داخلوں کو بھی ایک ماہ موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام اقدامات کا مقصد طالبعلموں کا پیشگی طور پر صورتحال سے آگاہ کرنا ہے تا کہ وہ اس حساب سے اپنی تیاری کرسکیں۔شفقت محمود نے کہا کہ ہم نے تعلیمی اداروں کو اپنے ہاسٹلز خالی کروانے کی تجویز دی تھی جس پر عملدرآمد ہوچکا ہے تاہم اس حکم کا اطلاق غیر ملکی طلبہ پر نہیں ہوگا لیکن انہیں جامعات کی حدود تک محدود کردیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ تعلیمی اداروں کے فیکلٹی اراکین مثلاً اساتذہ وغیرہ کا تعلیمی اداروں میں آنا ضروری نہیں لیکن اگر اداروں کو ضرورت پڑی تو وہ انہیں بلا سکتے ہیں۔وزیر تعلیم نے بتایا کہ اسکولوں کی بندش کا معاملہ 5 اپریل سے توسیع پا سکتا ہے لہٰذا متبادل تعلیمی نظام کے سلسلے میں وزارت تعلیم مختلف تجاویز پر غور کررہی ہے جس میں پی ٹی وی سے ورچوئل یونیورسٹی سمیت چند چینل حاصل کرنا بھی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان چینلز سے مختلف جماعتوں کے مضامین کے اوقات کار کے حساب مواد کی ایک ترتیب بنا کر کچھ لیکچرز ٹیلیویڑن کے ذریعے نشر کیے جائیں تا کہ بچوں کو تعلیم دی جاسکے جس کے لیے اساتذہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔علاوہ ازیں مختلف جامعات کی جانب سے آن لائن کورسز شروع کروائے جاسکتے ہیں اور اس سلسلے میں بھی اساتذہ کی ضرورت ہوگی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ عمومی طور پر تعلیمی اداروں میں ضرورت نہیں پڑے گی۔اس کے ساتھ انہوں نے لوک ورثہ میں تمام ثقافتی پروگرامز بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔انہوںنے کہاکہ اعلیٰ ثانوی تعلیمی کمیشن نے 3 کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جس میں ایک ٹیکنالوجی سپورٹ کمیٹی، کانٹینٹ کمیٹی اور پرو وینٹو میڑز کمیٹی ہے تا کہ آن لائن تعلیم کی صورت میں معاونت حاصل کی جائے اور اس سلسلے میں وزارت میں بھی کمیٹیاں بنائی جاچکی ہیں۔ وزیرتعلیم نے کہاکہ ہاسٹلز بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تاہم اسکا اطلاق بیرونی طالبعلوں پر نہیں ہوتا بلکہ انکو محدود کر دیا جائیگا کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔شفقت محمود نے کہاکہ یونیورسٹیز میں ہونے والے داخلوں کو بھی ایک ماہ کے لیے موخر کیاجائے گا ،تعلیمی اداروں کے فیکلٹی کو ڈیوٹی پر آنا ضروری نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر تعلیمی ادارے ضرورت سمجھے تو ٹیچرز کوبلاسکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.