وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان زیرصدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کورونا وائرس سے متعلق امور اور اسپتالوں کی کورونا وائرس کے طبی آلات کی ضروریات کے علاوہ دیگر اہم معاملات کا جائزہ لیا گیا

0

کوئٹہ:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کورونا وائرس سے متعلق امور اور اسپتالوں کی کورونا وائرس کے طبی آلات کی ضروریات کے علاوہ دیگر اہم معاملات کا جائزہ لیا گیا بلوچستان کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر اور متعلقہ محکموں کے حکام کی جانب سے اجلاس کو مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی گئی پارلیمانی سیکریٹری برائیصحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سیکریٹری صحت سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی سیکریٹری خوراک ڈی جی صحت ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں کورناوائرس کا مقامی پھیلاؤ 94 فیصد اور باہر سے آنے والوں کی وجہ سے 6 فیصد ہے وائرس سے اموات کی تعداد 37 ہے جبکہ 454 افراد صحتیاب ہوئے اس وقت شیخ زید اسپتال میں 20 فاطمہ جناح اسپتال میں 18 جبکہ سیلف آئیسولیشن میں 2163 افراد ہیں صوبے میں 149ڈاکٹرز اور 47 پیر ا میڈکس کورنا وائرس سے متاثر ہوئے اجلاس میں غیر ضروری ٹیسٹنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ عید کے بعد مزید 4 ٹیسٹنگ مشین اور 60 ہزار کٹس دستیاب ہونگی ادویات کی خریداری کا جاری عمل عید کے فوری بعد مکمل ہو جائے گا جبکہ کنٹریکٹ پر مائکرو بیالوجسٹ کی بھرتی کا عمل جاری ہے اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئیٹہ کے تین اسپتالوں میں وینٹیلٹر زاور آئی سی یو بیڈز میں اضافے کے لیے خریداری کی جارہی ہے اجلاس میں روڈ ٹرانسپورٹ اور ریل ٹرانسپورٹ کو کھولنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اتفاق کیا گیا کہ ایس او پیز کے بغیر ٹرانسپورٹ کھلنے سے کورونا وائرس دیہاتوں تک پھیل سکتا ہے جبکہ اجلاس میں پبلک روڈ ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا اور عوام سے سفر نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ کوئیٹہ کے لو گ شہر سے باہر نہ جائیں اور باہر سے لو گ کوئیٹہ نہ آئیں کیونکہ وائرس کے اثرات کوئیٹہ میں زیادہ ہیں جو باہر سے آنے والوں کو متاثر کر سکتے ہیں اجلاس میں عوام سے عید سادگی سے منانے کی اپیل بھی کی گء اور فیصلہ کیا گیا کہ عید کے میلوں پر مکمل پابندی ہو گی اجلاس میں عید گاہوں کی تعداد میں اضافہ کا فیصلہ بھی کیا گیا جس سے رش کو کم کیا جائے گا اجلاس میں گندم کی خریداری کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا اور گندم زخیرہ کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیا گیا علاوہ ازیں محکمہ اطلاعات کو مقامی زبانوں میں عوام میں سفر نہ کرنے کی آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.