پاکستان، ایران کا سرحدی میکانزم کیلئے باہمی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

پاکستان، ایران کا سرحدی میکانزم کیلئے باہمی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

اسلام آباد(زیبائے پاکستان آن لائن)پاکستان اور ایران نے نئے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھولنے میں تیزی لانے سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بارڈر میکنزم کے حوالے سے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان ایران ہائر بارڈر کمیشن(ایچ بی سی) کے دوسرے سیشن کے دوران پایا گیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (افغانستان، ایران اور ترکی) زاہد حفیظ چوہدری نے پاکستانی وفد جبکہ ڈی جی بین الا قوامی قانونی امور وزارت خارجہ ایران عباس اردیکانی نے اپنے ملکی وفد کی نمائندگی کی۔سیشن کے دوران فریقین نے متعلقہ فریم ورک کے اندر موجودہ بارڈر میکنزم پر موثر عملدرآمد کے لیے بحث کی۔دونوں ملکوں نے ان شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔دونوں ملکوں نے باہمی افہام و تفہیم سے نئے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھولنے میں تیزی لانے سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کیا اور سرحدی نقشوں کو اپ ڈیٹ اور مشترکہ بارڈر سروے کرنے سمیت فریقین نے موثر بارڈر منیجمنٹ کوششوں کے سلسلے میں باڑ کی تنصیب جیسے مناسب اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ واضح رہے کہ دونوں اطراف سے چار رکنوں پر مشترل اس سیشن کا اس سے قبل انعقاد جولائی 2017 میں ہوا تھا۔پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے جہاں جرائم پیشہ گروہ، دہشت گردوں اور منشیات کے اسمگلروں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔چند گروہوں نے ماضی میں سرحد پار حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں ایرانی سرحدی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک بھی ہوئے جس کی وجہ سے سرحدی سیکیورٹی دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑی رکاوٹ بنی رہی ہے۔پڑوسی ممالک نے سرحدی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیںأ

اپنا تبصرہ بھیجیں