جامعہ بلوچستان کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ واضحکیا ہے کہ یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو کسی بھی صورت خراب کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جائے گی

جامعہ بلوچستان کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ واضحکیا ہے کہ یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو کسی بھی صورت خراب کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جائے گی

کوئٹہ:(19اکتوبر2019) جامعہ بلوچستان کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ واضحکیا ہے کہ یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو کسی بھی صورت خراب کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جائے گی اور کچھ عناصر احتجاج کے آڑ میں جامعہ کے تعلیمی سرگرمیوں پر اثر انداز ہونے اور اسے پستی کے جانب دکھیلنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ جس کی سخت سے سخت مذمت کر تے ہیں ۔کیونکہ جامعہ کے تمام شعبہ جات میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ جس میں 15000کے قریب طلباء و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اور مختلف سمسٹرز کے امتحانات بھی ہورہے ہیں۔ جہاں تک اس حساس معاملہ کا تعلق ہے اس حوالے سے مختلف ادارے اور کمیٹیاںاپنی کام سرانجام دے رہے ہیں اور معزز عدالت میں بھی یہ معاملہ زیر غور ہے اور وفاقی ادارہ ایف آئی اے کی اس حوالے سے مکمل تفشیش کررہی ہے ۔تاکہ اصل حقائق سب کے سامنے لائے جاسکیں اور ملوث عناصر کوکرار واقعی عبرتناک سزاادی جائے ۔ اور جامعہ بلوچستان اس سے قبل اور آئندہ بھی ایف آئی اے سمیت تمام اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی اور بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ بہت سی جماعتیںاس حساس معاملے کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کررہے ہیںاور اپنے پسند نا پسند کے بنا پر مختلف الزابات لگا رہے ہیں۔ جس کے باعث یونیورسٹی غیر یقینی صورت حال سے دور چار ہونے سمیت طلباء و طالبات کے تعلیمی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اور بہت سے عناصر جامعہ کے تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کی آڑ میں لگے ہوئے ہیں تاکہ یونیورسٹی کو غیر یقینی صورتحال سے دو چار کرکے اپنے مقاصد حاصل کرسکیں۔ جسکی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کیونکہ چانسلرجامعہ بلوچستان و گورنر بلوچستان بھی اس معاملے کو دیکھ رہے ہیںاور انہوں نے بھی یقین دلایا ہے کہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کو بروء کار لاتے ہوئے تمام حقائق کو سامنے لایا جائے گا۔ اور جامعہ انتظامیہ نے ایک بار پھر واضع کرنا چاہا ہے کہ جامعہ تمام اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کیلئے تیار ہے۔ کیونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ جو تمام سیاست ، صحافت سے بالا ترہے۔ جس پر ہمیں سیاست سے گریز کرنا چائیے۔ اور اپنے آنے والی نسلوں کی مستقبل کو محفوظ بنانے اور مادر علمی کو غیر یقینی صورتحال سے نکالنے کے لئے دور اندیشی کا ثبوت دینا چائیے۔ اور یقیناََ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں ، عوامی و میڈیا کے نمائندیں سمیت تمام مکتب فکر کے لوگ اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں