اداریہ 20 اکتوبر 2019

ُپی آئی اے کے کرایوں میں کمی کا مطالبہ بلوچستان اسمبلی کے فلور پر!!

اتوار20اکتوبر 2019ء
اخباری اطلاعا ت کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے قومی ایئر لائنز (پی آئی اے )کے کرایوں میں کمی کامطالبہ کرتے ہوئے ایئر لائنز کے عملے کے رویے کی بھی شکایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عملے کے نامناسب رویے پر توجہ دی جائے نیز اراکین کی تجویز پر ڈپٹی سپیکر نے چیئر مین پی آئی اے کو مراسلہ لکھنے کی تاکید کی ہے ۔ اس معاملے کوڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت جمعے کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن وپارلیمانی سیکرٹری برائے کیوڈی اے بشریٰ رند نے پوائنٹ آف آرڈر پراٹھایا جس کے بعد دیگر اراکین نے بھی اس حوالے سے اپنے تحفظات کااظہار کیا بشریٰ رند کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے عملے کامسافروں کے ساتھ رویہ درست نہیں ہوتا انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ مثبت اور اچھا رویہ تو مسافر بسوں کے ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کا ہوتا ہے کوئٹہ سے ملک کے دیگر شہروں کے لئے پی آئی اے کے کرائے بھی زیادہ ہیں اس حوالے سے بلوچستان اسمبلی سے کچھ عرصہ قبل ایک قرار داد بھی منظور ہوئی تھی جس کا تذکرہ گزشتہ روز کے اجلاس میں بھی ہوا اور اراکین نے مذکورہ قرار داد کی سفارشات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت انجینئرزمرک اچکزئی نے بھی پی آئی اے کے کرایوںمیں اضافے کے مسئلے کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس حوالے سے ہم پہلے بھی اس فلور پر بات کرتے آئے ہیں تاہم پی آئی اے حکام موقف یہ اختیار کرتے ہیں کہ بلوچستان میں پی آئی اے خسارے میں ہے حالانکہ قومی ادارے کی حیثیت سے پی آئی اے کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانی چاہئے وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پی آئی آئی اور واپڈا سمیت دیگر وفاقی اداروں کو عوام کو سہولیات کی فراہمی کا پابند بنائیں ہم عوام کے ساتھ کسی صورت ظلم برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے بھی چیئرمین پی آئی اے کو طلب کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا تاہم جان جمالی نے اس تجویز سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ رولنگ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا سول ایوی ایشن کے وزیر کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا جائے اس موقع پر اراکین کے اصرار پر ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اسمبلی کوہدایت کی کہا کہ ایوان سے منظور ہونے والی قرار داد کی کاپی منسلک کرکے چیئرمین پی آئی اے سے وضاحت طلب کی جائے اگر تسلی بخش جواب نہیں آیا تو انہیں اگلے اجلاس میںانہیں طلب کر لیا جائے گا۔ہم نہیں جانتے کہ بلوچستان اسمبلی سیکرٹریٹ سے مذکورہ مراسلہ کب تک بھیجا جائے ا ور اس کے کیا نتائج نکلیں گے لیکن ایک بات طے شدہ ہے کہ اگر بلوچستان اسمبلی اس حوالے سے فعالیت کا ثبوت دے تو نہ صرف قومی ایئر لائنز کے عملے اور انتظامیہ کو بلوچستان پر خصوصی توجہ دینے پر آمادہ اور مجبور کیا جاسکتا ہے بلکہ اضافی کرایوں کی وصولی سے متعلق جو شکایات ہیں ان کا ازالہ بھی ممکن ہوسکے گا اور عملے کا رویہ بھی بہتر کیاجاسکے گا بلوچستان ملک کا انتہائی اہم صوبہ ہے جس کے ساتھ قومی ایئر لائنز کا رویہ ہمیشہ سے امتیازی رہا ہے کوئٹہ سے اندرون ملک پی آئی اے کے کرایوں میں کمی لانے کے لئے پی آئی اے حکام کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور بلوچستان میں پائے جانے والے اس احساس کو زائل کرنا ہوگا کہ قومی ایئر لائنز بلوچستان کو توجہ نہیں دیتا ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ پی آئی اے حکام جان بوجھ کر بلوچستان کو تونہیں دیتے بلکہ اس صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسمبلی فلور ، صوبائی کابینہ اور دیگر متعلقہ فورمز پر عوام کوسہولیات کی فراہمی کے حوالے سے سنجیدگی و فہمیدگی کا ماضی میں شدید فقدان رہا ہے اگر اب صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی اس حوالے سے ہم آواز ہو تو اس نوعیت کے مسائل چ

اپنا تبصرہ بھیجیں