کوارڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان راشدرزاق نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے

کوئٹہ (زیبائے پاکستان آئی این پی ) کوارڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان راشدرزاق نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 22اپریل بروز پیر سے بلوچستان کے 33اضلاع میں تین روزہ انسداد پولیو مہم 22اپریل سے شروع ہورہی ہے جس کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ سہ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 24لاکھ 69ہزار143بچوں کو پولیو سے بچاکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ مہم کے دوران بچوں کو وٹامن اے کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔ اس مہم کے دوران10 ہزار977کے قریب ٹیمیں حصہ لینگی ۔جن میں 8ہزار886موبائل ٹیمیں، 952فکسڈسائٹ اور951ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت دنیا بھر میں پاکستان، افغانستان اور نائجیریا تین ایسے ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس موجود ہے ۔ سال2019کے دوران6 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 4 کے پی کے، 1 پنجاب جبکہ 1 سندھ میں رپورٹ ہواہے۔ کوارڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر راشد رزاق کا کہنا ہے کہ 22 اپریل پیر سے شروع ہونے والی پولیو مہم انتہائی اہمیت کی حامل ہے، خصوصا گرم علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ بلوچستان کے مختلف علاقوں کی طرف سفر کر رہے ہیں ، اس ضمن میں ٹرانزٹ پوائنٹس پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ پولیو وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ہم نے عزم کررکھا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پورے صوبے سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہوجاتا لہذا پولیو کے خاتمہ کے لیے انسداد پولیو کی ہر مہم میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچا کی ویکسین پلانا لازمی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بچوں کوحفاظتی ٹیکہ جات کا کورس مکمل کرانا بھی لازمی ہے تاکہ بچوں میں پولیو سمیت دیگر خطرناک اور جان لیوا بیماریوں سے بچنے کے لیے قوت مدافعت پیدا ہو۔راشدرزاق نے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب اور ہر بچے کو قطرے پلانے کیلئے کمیونٹی ہیلتھ رضاکاروں کی بھی خدمات لی جارہی ہیں جو ان ہائی رسک علاقوں میں کام کرینگے جہاں بچوں تک رسائی مشکل ہے اس عمل کوبہتر بنانے کیلئے علما کرام، قبائلی رہنماں اور معتبرین کی بھی مدد لی جارہی ہے۔ہماری میڈیااور عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارے بچے مستقل معذوری سے بچ سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ پولیو لا علاج مرض ہے او ر پولیو ویکسین پلا کر ہی بچوں کو اس سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔انسداد پولیو مہم کے لئے سکیورٹی کے انتظامات بھی مکمل کرلئے گئے ہیں جس میں ضرورت کے مطابق بلوچستان لیویز اور پولیس کے عملے تعینات ہونگے اور فرنٹیئر کور(ایف سی) بلوچستان بھی اضافی سکیورٹی فراہم کرے گی۔ والدین سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاکے قطرے پلائیں اور بار بار پلائیں کیونکہ وائرس یہاں موجود ہے جو کسی بھی وقت ان بچوں پر حملہ آور ہوسکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں