وزیرِ اعظم عمرا ن خان نے کہاہے کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے

0

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمرا ن خان نے کہاہے کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے،کورونا کے پیش نظر صوبے کی معاشی صورتحال سے عوام کو مکمل طور پر باخبر رکھا جائے، مشکل حالات کے باوجود ہر ممکنہ کوشش کی جائے کہ ترقیاتی اخراجات کم سے کم متاثر ہوں اسی طرح آئندہ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے آئوٹ آف باکس سلوشن پر توجہ دی جائے، انضمام شدہ علاقوں کی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ، حکومت اس مقصد کے حصول کے لئے تمام مطلوبہ وسائل فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ خیبرپختونخوا کے ترقیاتی امور، آئندہ بجٹ کے حوالے سے اصلاحات، کورونا وائرس کے تناظر میں صوبائی معاشی صورتحال خصوصا صوبائی آمدن و اخراجات، وسائل کے حوالے سے درپیش مسائل پر قابو پانے کے لئے مستقبل کے لائحہ کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں رشکئی خصوصی اقتصادی زون کے قیام میں پیش رفت، سوات موٹروے فیز ٹو منصوبے پر عمل درآمد اور توانائی کی پیداوار کے حوالے سے صوبے کی استعداد اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی ۔ اجلاس میں وزیر توانائی عمر ایوب خان، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، چیئرمین سی پیک لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے وزیرِ اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان، صوبائی وزیرِ خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا، چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ ڈاکٹر کاظم نیاز و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ۔اس دوران صوبائی وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث صوبے کی آمدن و اخراجات میں توازن متاثر ہواہے لہذا آئندہ بجٹ میں اس خسارے پر قابو پانے کے لئے وفاقی حکومت کی معاونت درکار ہوگی تاکہ ترقیاتی عمل میں کسی قسم کا تعطل نہ آئے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ کورونا کے پیش نظر صوبے کی معاشی صورتحال سے عوام کو مکمل طور پر باخبر رکھا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ مشکل حالات کے باوجود ہر ممکنہ کوشش کی جائے کہ ترقیاتی اخراجات کم سے کم متاثر ہوں اسی طرح آئندہ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے آئوٹ آف باکس سلوشن پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ پر بھرپور توجہ دی جائے تاکہ جہاں ایک طرف ترقیاتی ضروریات پوری کی جا سکیں وہاں ترقیاتی عمل میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھا کر حکومتی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ توانائی سے متعلقہ معاملات پر غور کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ حل طلب معاملات خصوصا توانائی کے ضمن میں صوبے کی استعداد کو برے کار لانے کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کو وزارتِ توانائی کی مشاورت سے مرتب کیا جائے۔ اجلاس میں رشکئی خصوصی اقتصادی زون کے قیام میں پیش رفت کا جائزہ بھی لیاگیا اور سوات موٹر وے فیز ٹو منصوبے اور مختلف دیگر ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد خصوصا ان منصوبوں کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جلد از جلد تکمیل کے لئے مختلف سفارشات وزیر اعظم کو پیش کی گئیں ۔ اجلاس میں انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں کی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اس مقصد کے حصول کے لئے تمام مطلوبہ وسائل فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.