موبائل فون سروس بند کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

0

اسلام آباد :  سپریم کورٹ نے تہوار اور مخصوص مواقعوں پر موبائل فون سروس بند کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے د یتے ہو ئے موبائل فون کمپنی کو اپنی تشویش وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کر دی ۔تفصیلات کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمی کے دو رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے حکومت اور پی ٹی اے کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آبادہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور موبائل فون کمپنی کو اپنی تشویش وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کی۔اس سے قبل موبائل فون کمپنی کے وکیل نے اپنیدلائل میں کہا تھا کہ سیکیورٹی کے مسئلے پر مخصوص ایریاز میں سروس بند کی جانی چاہیئے،لیکن پی ٹی اے پورے شہر میں سروس بند کرنے کی ہدایات دے دیتا ہے،پی ٹی اے کی ہدایات کا معیار ہونا چاہیے،یہ نہیں ہونا چاہئے کہ سابق وزیراعظم لندن سے واپس آئے،انہیں جیل لے جانا ہو تو سروس بند کردی جائے۔جس پرجسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار کمپنی قومی مفاد کے معاملات کا مذاق نہ اڑائے،تاہم موبائل سروس بند کرنے کی ہدایات قابل جواز اور شفاف ہونی چاہیے کمپنی یہ نہ بتائے کہ وزیراعظم یا وزیراعلی کدھر جاتے ہیں کدھر نہیں کمپنیوں نے ریاست کے قوانین کی پابندی کرنی ہے۔اس موقع پر بینچ میں شامل جسٹس قاضی امین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسی ہزار جانیں گنوائیں اور اربوں کا نقصان اٹھایاہے پاکستان میں غیر ملکی کمپنی مرضی کریں یہ نہیں ہو سکتا، غیر ملکی کمپنی حکومت کو سروس بند کرنے کے معاملہ پر ڈکٹیٹ نہیں کر سکتی۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے حکومت اور پی ٹی اے کی اپیل منظور کرتے ہوئے کمپنی کو معاملہ حکومت کے ساتھ زیربحث لانے کی ہدایت کی اور درخواست نمٹا دی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.