وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت جمعہ کے روز منعقد ہونے والے اجلاس میں بلوچستان کوسٹل ڈ ویلپمنٹ اتھارٹی کے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائیزہ لیا گیا

0

کو ئٹہ  : وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت جمعہ کے روز منعقد ہونے والے اجلاس میں بلوچستان کوسٹل ڈ ویلپمنٹ اتھارٹی کے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائیزہ لیا گیا وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر عبدالروف رند ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات اور سیکریٹری محکمہ ماہی گیری نے بھی اجلاس میں شرکت کی ڈی جی بی سی ڈی اے بابر خان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بی سی ڈی اے گوادر اور لسبیلہ اضلاع کے ساحل پر سات مقات پر سیاحتی مراکز کے قیام کے منصوبے شروع کر رہی ہے 1075 ملین روپے لاگت کے منصوبوں کے پی سی ون منظوری کے لئے پی اینڈ ڈی میں جمع کی گئی ہیں انہوں نے بتایا کہ جیونی گوادر پسنی اورماڑہ کنڈملیر ڈامب اور گڈانی کے ساحلی مقامات پر ریزورٹ ہوٹلز جیٹیز اور واٹر سپورٹس کی سہولیات فراہم کر کے سیاحوں کی توجہ حاصل کی جائے گی اور بلوچستان کے ساحلوں پر ایکو ٹورزم کو فروغ دیا جائے گاساحلی علاقوں میں شجر کاری کے منصوبے بھی شروع کئے جارہے ہیں اجلاس کو ساحلی علاقوں میں ہوا اور سورج سے توانائی کی پیداوار سمیت دیگر ترقیاتی منصوبو ں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گءاجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ سیاحتی مراکز کے قیام وترقی کے منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ ہارٹنر شپ کو بروئے کار لایا جائے گا اور جلد نجی کمپنیوں کے لئے اظہار دلچسپی کا نوٹس اخبارات کے زریعہ مشتہر کر دیا جائے گا ساحلی شاہراہ پر ریستوران اور دیگر سہولتوں کے قیام کے منصوبے بھی بنائے جائیں گے اور ساحلی علاقوں میں 250 ملین روپے کی لاگت سے بیچ پارک کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا وزیراعلیٰ کے کورڈینیٹر عبدالرو¿ف رند نے اس موقع پر بی سی ڈی اے ایکٹ میں ترامیم اور ساحلی علاقوں کی ماسٹر پلاننگ کی تجویز بھی پیش کی جس پر مکمل اتفاق رائے پایا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ساحلی سیاحتی مراکز کی تعمیر کے منصوبوں کی اراضی کی ملکیت بی سی ڈی اے کو دی جائے اور بی سی ڈی اے اراضی کی ملکیت کی بنیاد پر ملکی و بین الاقوامی فرموں کے ساتھ ایکویٹی پر شراکت داری کے منصوبے بنائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس سے معیشت پر پڑنے والے اثرات کے تناظر میں صوبے کے اپنے وسائل کی ترقی ناگزیر ہے جس میں سیاحت کا فروغ بھی شامل ہے انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 سے آئیندہ ایک سال تک بیرون مما لک سیاحت اور سفری سہولیات میں کمی رہے گی بلوچستان کے ساحلی اور دیگر علاقوں میں سیاحتی مراکز کو ترقی دے کر ملکی سیاحوں کی توجہ حاصل کی جاسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.