سنگین غداری کیس، رضابشیر، پرویز مشرف کے نئے وکیل مقرر

سنگین غداری کیس، رضابشیر، پرویز مشرف کے نئے وکیل مقرر

اسلام آباد(زیبائے پاکستان آئی این پی)اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں وکیل رضا بشیر کو ان کا نیا وکیل دفاع مقرر کردیا، جبکہ وزارت قانون کو سابق صدر کے نئے وکیل کے اخراجات کی ادائیگی کی بھی ہدایت کردی۔جمعرات کو جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں سیکریٹری قانون عدالت میں پیش ہوئے اور پرویز مشرف کا وکیل دفاع مقرر کرنے کے لیے 14 ناموں پر مشتمل وکلا کے نام عدالت میں جمع کروائے، جن میں اختر شاہ ایڈووکیٹ اور ارم شاہین کے نام بھی شامل ہیں۔سرکاری پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ فہرست میں شامل کسی نام پر اعتراض نہیں، ملزم کے لیے وکیل مقرر کرنا عدالت کی صوابدید ہے۔جسٹس طاہرہ صفدر نے ریمارکس دیے کہ وزارت قانون کی جانب سے 14 ناموں کی فہرست دی گئی ہے، تاہم فہرست میں سے کسی ایک نام کا انتخاب عدالت کرے گی۔جسٹس طاہرہ صفدر نے مزید ریمارکس دیے کہ آج ہی مشرف کے دفاع اور 342 کے بیان کے لیے وکیل مقرر کریں گے۔پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے مسلسل غیر حاضر رہنے پر سابق صدر کے دفاع کا حق ختم کرتے ہوئے ان کے وکیل کو کیس کی مزید پیروی سے روک دیا تھا۔جس کے بعد عدالت نے پرویز مشرف کا نیا وکیلِ دفاع مقرر کرنے کے لیے وزارت قانون سے وکلا کی فہرست مانگی تھی جسے سیکریٹری قانون نے جمع کروایا۔مذکورہ فہرست میں سے خصوصی عدالت نے وکیل رضا بشیر کو سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کا وکیلِ دفاع مقرر کرتے ہوئے کیس کی سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔سماعت کے بعد جاری ہونے والے حکم نامے کے مطابق رضا بشیر کے وکیل دفاع مقرر ہونے کا نوٹیفکیشن آئندہ 3 روز میں جاری کر دیا جائے گا جبکہ وزارت قانون نے رضا بشیر کے اخراجات ادا کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔واضح رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف شدید علیل ہیں اور گزشتہ ڈھائی سال سے دبئی میں مقیم ہیں۔یاد رہے کہ خصوصی عدالت نے 2 مئی کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس ملتوی کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی سے متعلق درخواست پر حکومت اور استغاثہ کو نوٹسز جاری کردیے گئے تھے۔تاہم 12 جون کو خصوصی عدالت نے مقدمے میں سابق صدر کی بریت اور التوا کی درخواستیں مسترد کردیں تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں