وزیراعظم کی میانوالی آمد، پودا لگا کر شجرکاری مہم کا افتتاح کردیا

0

میانوالی (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے میانوالی کے علاقے کندیاں میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا افتتاح کردیا۔اتوار کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار عمران خان کے ہمراہ موجود تھے

۔اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم کندیاں میں پودا لگا کر موسم بہار کی شجرکاری مہم کا افتتاح کیا۔وزیراعظم کی میانوالی آمد پر انہیں شجرکاری مہم کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔اس موقع پر وزیر اعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے شجر کاری بہت اہم ہے تاہم نوجوانوں میں احساس نہیں کہ شجر کاری کتنی اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ انگریز جو جنگل چھوڑ کر گئے ہم نے وہ بھی تباہ کر دیئے، میں نے اپنی زندگی میں جنگلات کو تباہ ہوتے دیکھا، چھانگا مانگا میں بڑے درخت ہی نہیں رہے، لوگوں نے زمین پر قبضے کر لیے۔وزیراعلیٰ پنجاب سے کہا کہ جن لوگوں نے جنگلات کی زمین پر قبضہ کیا ان سے مجرموں کی طرح نمٹا جائے اور انھیں جیلوں میں ڈالا جائے کیونکہ یہ لوگ ہمارے بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کندیاں میں جو پودے لگائے ہیں، اس جنگل کی ذمہ داری اب آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ جب یہ جنگل لوگوں کو نوکریاں دے گا تو اس وقت آپ کو اس جنگل کی اہمیت کا اندازہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ کندیاں میں بیری کے درختوں سے شہد حاصل ہو گا لیکن اگر جنگل تباہ کر دیئے تو موسمیاتی تبدیلی ہمارا مستقبل تباہ کر دے گی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ شجرکاری کی اہمیت کے حوالے سے ہمیں اپنے بچوں کو پڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ملک میں 12 موسم ہیں، ہر طرح کا پھل ہمارے ملک میں پیدا ہوتا ہے، ہماری غلطی ہے کہ ہم نے اللہ کی دی ہوی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں دیکھا پاکستان میں لوگوں کو اپنے جنگلات تباہ کرتے ہوئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جنگلات ہی نوجوانوں کا مستقبل ہے، یہ جنگل آپ کو نوکریاں دلائے گا جس کا اندازہ آپ کو آئندہ سالوں میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت میانوالی پر پیسہ خرچ کر رہی ہے، ہم یہاں کے اسکول اور ہسپتال ٹھیک کر رہے ہیں اور پانی کا مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہم پنجاب میں آئی جی لے کر آئے ہیں اور ان کو کہا ہے کہ بڑے ڈاکوؤں کو پکڑیں کیونکہ چھوٹے چوروں کو پکڑنے سے چوری نہیں ختم ہوتی، ہماری حکومت نے پہلی مرتبہ اس طرح کا اقدام کیا ہے جس سے امید ہے کہ کرپشن کم ہوگی۔انہوںنے کہاکہ میانوالی میں نمل یونیورسٹی بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹی بنے گی، دنیا سے لوگ یہاں پڑھنے آیا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ملک ایسے ترقی نہیں کرتا جہاں زیادہ تر پیسہ چھوٹے سے علاقے میں خرچ ہوں، ہمارا فرض ہے کہ غریب، کمزور علاقوں پر زیادہ پیسہ خرچ کیا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میرا مشن ہے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا، یہی مشن قائد اعظم کا تھا مگر ہم غلط راستے پر چل پڑے، فلاحی ریاست بننے کے بجائے تھوڑے سے لوگ امیر ہوگئے اور عوام پیچھے رہ گئی۔انہوںنے کہاکہ ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے تھی روزگار دینا اور اگر روزگار نہ دلواسکیں تو ریاست کی جانب سے معاوضہ دیا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے ہمیں مقروض کرکے چھوڑا تھا مگر اس کے باوجود ہم نے پنجاب میں صحت کارڈ پہنچائیں، قبائلی علاقوں میں سب کو، پختونخوا میں تمام غریب عوام کو صحت کارڈ پہنچانا۔انہوںنے کہاکہ ہر سال 80 ہزار لوگوں کو سود کے بغیر قرضے دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں، ہر سال50 ہزار نوجوانوں کو اسکالرشپس دیں گے اور دیہاتوں میں خواتین کو مویشی فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنے گھر کو چلاسکیں۔اپنے دورے کے دوران وزیراعظم مہمان خصوصی کی حیثیت سے نمل یونیورسٹی کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد میں بھی شرکت کریں گے۔حال ہی میں بلجیم کے ٹی وی چینل وی آر ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے پاکستان میں 10 ارب درخت لگانے کا ہدف طے کیا ہے جس سے ماحول اور جنگلات بہتر ہوں گے اور جنگلی حیات بھی واپس آئیں گے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوگا کیونکہ اس کا انحصار دریاؤں پر ہے اور اس کے دریاؤں میں 80 فیصد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے۔انہوںنے کہاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے یہ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور یہ ہماری لیے تشویش ناک ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.