دورہ بھارت کے دوران امریکی صدرٹرمپ پاک-بھارت کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیں گے

0

واشنگٹن(این این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دوروزہ دورے کے دوران بھارت اور پاکستان سے کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر قیام امن اور کشیدگی کو بڑھانے والے اقدامات یا بیانات سے گریز کرنے پر زور دیں گے۔امریکی صدر آئندہ کچھ روز میں دو روزہ دورے پر بھارت پہنچیں گے جس سے دونوں ممالک کو شراکت داری و معاشی تعلقات مزید بڑھنے کی امید ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے امریکی صدر کے دورے کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے دورے کے دوران بھارتی رہنماؤں سے زیر بحث آنے والے امور اور منصوبوں کے حوالے سے بتایا۔مسئلہ کشمیر پر دوبارہ ثالثی کی پیشکش سے متعلق کیے جانے والے سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ سے جو آپ سنیں گے وہ حوصلہ افزا ہوگا، بھارت اور پاکستان میں کشیدگی میں کمی، دونوں ممالک کے باہمی مذاکرات میں شمولیت تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہو۔انہوںنے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ کامیاب مذاکرات کی بنیاد پاکستان کی اپنی حدود میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف کریک ڈاؤن کو برقرار رکھنا ہے اور ہمیں اس کی امید بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ امریکی صدر دونوں ممالک کو لائن آف کنٹرول پر قیام امن کی کوششوں کے لیے زور دیں گے اور ایسے اقدامات یا بیانات جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو، سے گریز کرنے کا کہیں گے ان سے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے بعد امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا کے بعد بھارتی فوج کے ذریعے افغانستان میں امن برقرار رکھنے سے متعلق سوال کیا گیا جس کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ہم اس میں صرف بھارت کی حوصلہ افزائی کریں گے کیونکہ خطے کے تمام ممالک کو اس امن مرحلے کی حمایت میں جو ہوسکے کرنا چاہیے تاکہ یہ کامیاب ہو اور ہم 19 سالہ جنگ کا خاتمہ کرسکیں۔انہوں نے امریکا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کے بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں تشدد کم کرنے کیلئے معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے اورہم یہ آگے کی جانب اہم قدم سمجھتے ہیں اور ہماری پوری توجہ اسی پر ہے۔حکام کے مطابق امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو معاہدے پر دستخط سے امید ہے کہ امریکا کی افغانستان میں فوجی مداخلت ختم ہوجائے گی اور امریکا فوجی انخلا کے بعد افغانستان سے سفارتی و معاشی مصروفیات جاری رکھے گا۔انہوںنے کہاکہ ہم اس امن مرحلے کی حمایت کے لیے بھارت کی جانب دیکھتے ہیں جو خطے کا اہم ملک ہے اور خطے میں استحکام کے لیے بھی اہم ہے اور مجھے لگتا ہے اگر یہ بات ہوئی تو امریکی صدر کی بھی یہی درخواست ہوگی۔بھارت کی کشمیر کے مسئلے پر تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرنے کے بیان پر امریکی حکام نے کشمیر کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کیا تاہم لائن آف کنٹرول کی صورتحال کا حوالہ دینے کا تعلق پاک-بھارت کے درمیان کشمیر کا تنازع ہی تھا۔نئی دہلی کی طرح پاکستان پر الزامات لگانے کی جگہ حکام نے واضح کیا کہ واشنگٹن نے موقف ظاہر کیا کہ دونوں ممالک لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام لانے کے ذمہ دار ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ کرنے والے بیانات و اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ان کے اس بیان سے واضح تھا کہ انہوں نے بھارتی سینئر فوجی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پاکستان پر الزام لگانے اور مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوجی کارروائی کرنے کی دھمکی کا ہی حوالہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات میں مذہبی آزادی کے حوالے سے بھی بات کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ان امور کو اجاگر کریں گے جن میں بالخصوص مذہبی آزادی کا مسئلہ ہے جو انتظامیہ کے لیے نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ امریکی صدر ان امور پر نریندر مودی سے بات کریں گے اور بتائیں گے کہ دنیا بھارت میں جمہوری روایات اور اقلیتوں کے لیے احترام کی جانب دیکھ رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.