صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 110 ہوگئی ہے،کیپٹن(ر) فضیل اصغر

0

کوئٹہ (این این آئی)چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن(ر) فضیل اصغرنے کہا ہے کہ صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 110 ہوگئی ہے، ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے مزید طبی آلات کی خریداری کی جاری ہے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر 50ایکٹر زمین پر پری فیپ ہسپتال تعمیر کی جائیگاجس میں ابتدائی طور پر 1ہزار افراد کو رکھنے کی گنجائش ہوگی این ڈی ایم اے کی جانب سے 600کنٹینر تاحال تفتان نہیں پہنچے، تفتان میں بھی 5ہزار کمروں کی سہولت قائم کی جائیگی۔ یہ بات انہوں نے پیر کو سول سیکرٹریٹ میں کوئٹہ میں انسداد کورونا کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد صوبائی وزراء میر ظہور بلیدی، انجینئر زمرک خان اچکزئی سمیت دیگر کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن(ر) فضیل اصغر نے بتایا کہ کورونا وائرس اب تک صرف کوئٹہ میں اثرانداز ہوا ہے، بلوچستان میں کوروناوائرس کے 2 مزید کیسز سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 110 ہو گئی ہے، جبکہ ایک متاثرہ شخص جاں بحق بھی ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ مستقبل کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مزید طبی سامان اور ادویات کی خریداری کی جارہی ہے، نئے سامان کے باعث ایک ہزار مریضوں کو دو سے تین ماہ تک سنبھالا جاسکے گا، شیخ زید ہسپتال کو مکمل طور پر کورونا وائرس کے مختص جبکہ دیگر ہسپتالوں میں وارڈز اور آئسولیشن سینٹرز فعال کر دیئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے لیبارٹری کے سامان کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے جس سے ہم ایک دن میں 1ہزار افراد کے ٹیسٹ کر سکیں گے ،اگر وائرس کوئٹہ شہر میںپھیلتا ہے تو شہر میں سروے بھی کیا جائیگا تاکہ ہمیں ہمہ وقت معلوم ہوسکے کہ مقامی طور پر کس علاقے سے زیادہ کیسز آرہے ہیں ۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ سریاب روڈ پر50ایکڑ اراضی کا بندوبست کیا گیا ہے جہاں پر ابتدائی طور پر تین ماہ میں پری فیب مارکی لگائی جائیگی جس میں 1افراد کو رکھنے کی گنجائش ہوگی جبکہ اس سہولت میں ایف ڈبلیو او کے توسط سے ایک ہزار کمرے تعمیر کئے جائیں گے جو کسی بھی قدرتی یا ہنگامی صورتحال میں کام آئیں گے ،اس کے علاوہ اسی میڈیکل سٹی میں 5ہزار کمرے مزید بھی بنائے جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے سے تفتان میں 600کنٹینر اب تک موصول نہیں ہوئے ، تفتان میں بھی مزید 5 ہزار کمرے بنائے جارہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں 30وینٹی لیٹر موجود ہیں جبکہ مزید بھی خریدے جارہے ہیں ان وینٹی لیٹر کے عملے کو سی ایم ایچ میں 20،20افراد پر مشتمل بیچ کے ذریعے ٹریننگ دی جائیگی انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم سب اپنے گھروں میں مقیم رہیں گے تو وائرس کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا، لازمی طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جن زائرین کے ٹیسٹ نیگٹیو آئے ہیں وہ بھی 2 ماہ تک خاص طور پر احتیاط کریں، نیگیٹو آنے والے افراد کی مناسب دیکھ بھال بے حد ضروری ہے۔انہوں نے ڈاکٹرز اور پیرا میڈک اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے درخواست ہے کہ انہیں اس عرصے کے دوران گنی تنخواہیں ادا کی جائیں، فضیل اصغر نے مزید کہا کہ روز مرہ بنیادوں پر کام کرنے والے افراد کو حکومت سپورٹ کرے گی۔ اس سلسلے میں فلاحی تنظیمیں بھی متاثرہ افراد کیلئے خدمات سرانجام دیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزراء انجینئرزمرک خان اچکزئی اور میر ظہوراحمد بلیدی نے کہا کہ لوگ کورونا کے مرض کو سنجیدہ نہیں لے رہے بلوچستان میں اس بیماری سے ایک ہلاکت بھی ہوچکی ہے ،سیاسی جماعتیں آج بھی اجلاس اور سرگرمیاں کر رہی ہیں لوگ شادیاں کر رہے ہیں ہماری سیاسی جماعتوں ، مذہبی رہنمائوں ،عوام سے گزارش ہے کہ وہ سیاسی، سماجی ، مذہبی تقریبات، عبادات، رسومات کو فل الفور منسوخ کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.