ڈپٹی کمشنر گوادر کیپٹن (ر) محمد وسیم کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا

0

گوادر : ۔ڈپٹی کمشنر گوادر کیپٹن (ر) محمد وسیم کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں کوسٹ گارڈز، ایم ایس اے پاک نیوی، پاک آرمی اور محکمہ فشریز اور ماہی گیر نمائندوں کی شرکت اجلاس میں لاک ڈاؤن سمیت ماہی گیری و دیگر مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع گوادر کے ماہی گیر پانچ نائٹکل مائل کے اندر رہتے ہوئے شکار کرسکتے ہیں جبکہ تحصیل گوادر،تحصیل پسنی،اورتحصیل اورماڑہ کے ماہی گیر 12 گھنٹے کا ٹوکن حاصل کرکے دن یا رات کو شکار کرسکتے ہیں۔اجلاس میں کہا گیا ہے کہ گوادر جیٹی سے ماہی گیروں کو ایم ایس اے ٹوکن جاری کرے گا ڈھوریہ وارڈ، گزروان، بلوچ وارڈ کے ماہی گیروں کو محکمہ فشریز اور کوسٹ گارڈ کے نمائندے ٹوکن جاری کریں گے جبکہ پدی زر پشکان اور گنز سے شکار پر جانے والے ماہی گیروں کو کوسٹ گارڈ سے ٹوکن حاصل کرنا ہوگا سربندن،پسنی،اوراورماڑہ کے ماہی گیروں کو بھی ایم ایس اے ٹوکن جاری کرے گی جیوانی اور بندری کے ماہی گیروں کودن کے اوقات میں 12 گھنٹے شکار پر جانے کی اجازت ہوگی رات کے وقت شکار پر جیونی اور بندری کے ماہی نہیں جاسکتے ہیں جبکہ جیوانی اور بندری کے ماہی گیروں کو ٹوکن فراہم کرنے کے لئے کوسٹ گارڈز کو ہدایت کردی گی ہے جیوانی اور بندری کے ماہی گیرایرانی سمندر کے ایریا کی طرف شکار پر نہیں جاسکتے جیونی اور بندری کے ماہی گیر کوسٹ گارڈز کے لائٹ ہاؤس کی طرف رہتے ہوئے مشرق کی طرف شکار کرسکتے ہیں خلاف ورزی کرنے والے ماہی گیروں کے خلاف کاروائی ہوگی اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ضلع بھر کے ماہی گیر مشکوک کشتی اور افراد کی اطلاع فوری طور پر سمندر میں موجود اہلکاروں اور ضلعی انتظامیہ کو دیں تمام ماہی گیر احتیاطی تدابیراختیار کریں ماسک یا چادر کا استعمال ضرور کریں چھوٹی کشتوں میں چار افراد اور گالیٹ میں سات افراد سے زائد عملہ شکار پر نہیں جاسکتا۔ اور بغیراجازت اور ٹوکن کے سمندر میں جانے والے ماہی گیروں کے خلاف کاروائی ہوگی۔ ماہی گیر نمائندیاور تنظیمیں ماہی گیروں کو ایس او پیز پر عمل کرنے کے لئے شعور آگاہی پیدا کرے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ماہی گیروں کی معاشی پریشانی کے باعث ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں نے فشنگ کی اجازت دی ہے ماہی گیر ایرانی کشتیوں کی نشاندہی کریں تاکہ ماہی گیروں کا روزگار متاثر نہ ہو امید ہے کہ ضلع بھر کے ماہی گیر انتظامیہ اور سمندر میں موجود دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.