چین، مین ہول کے ڈھکن چرانے پر سزائے موت کی تجویز

0

بیجنگ:  چین میں اب مین ہول کے ڈھکن چرانے کے پاداش میں سزائے موت بھی سنائی جاسکتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس سخت ترین سزا کی تجویز خود عدلیہ کے اعلی حلقوں نے دی ہے۔چین میں سپریم پیپلز کورٹ، عدلیہ کونسل اور وزارت برائے عوامی تحفظ نے مشترکہ طور پر تحریر کردہ ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گٹر کے ڈھکنوں کو توڑنے والے یا پھر غائب کرنے والا شخص عوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر مجرم کو سخت سزا بشمول سزائے موت کی تجویز بھی دی گئی ہے۔اس سے وابستہ مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ گٹر کے ڈھکنے ہٹانے والے کو سخت سزا دینے کی اتنی ہی تاویل کافی ہے کہ ایک جانب تو وہ ٹرانسپورٹ میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو دوسری جانب عوام کی جانوں کو بھی خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ اسی لیے ان دونوں جرائم کو شامل کیا جائے تو یہ موت کی سزا دینے کے لیے کافی ہے۔دوسری جانب یہ مقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ مین ہول کھلا رہے تو یہ ایک کار اور ٹرام کو تباہ کرنے یا الٹانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدم کو عوامی پذیرائی مل رہی ہے۔چین میں عوامی تحفظ کے سب سے بڑے ادارے کے افسر وان چن نے کہا کہ جرائم میں اکثر مین ہول کے ڈھکنوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے حالانکہ اس کا انسانی زندگی، ذاتی حفاظت اور جائیداد کے تحفظ سے براہِ راست تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈھکن چرانے کے عمل کو محض عام جرم نہیں کہا جاسکتا ہے اور اس کے مرتکب کو سخت ترین سزا دی ہونی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.