قاسم الریمی کے قتل کے بعد جزیرہ العرب کی القاعدہ قیادت میں پھوٹ پڑ گئی

0

صنعاء(این این آئی)یمنی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ القاعدہ کمانڈر قاسم الریمی کے قتل کے بعد اس کی جگہ خالد باطرفی کو جزیرہ العرب میں القاعدہ کا نیا کمانڈر مقرر کیے جانے پر تنظیم میں سخت اختلافات سامنے آئے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق یمن میں القاعدہ کے مقرب ذرائع کا کہنا تھا کہ خالد باطرفی کی جزیرہ العرب میں تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی پر قیادت میں شدید اختلافات ہیں اور اس پر تمام رہ نمائوں کا اتفاق نہیں ہوسکا تاہم شوریٰ کی اکثریت نے اس کی حمایت کی ہے جس کی بناء پر اسے القاعدہ کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اختلاف کی ایک وجہ تنظیم کے خلاف صلیبی جنگ میں شدت اور دشمن کی طرف سے القاعدہ کمانڈروں کے تعاقب کے واقعات میں اضافہ بتایا جاتا ہے۔ایک مقامی ذریعے کا کہنا تھا کہ القاعدہ کی قیادت میں خالد باطرفی کو تعینات کرنے پر اختلافات موجود ہیں اور یہ اختلافات القاعدہ کو کم زور کرسکتے ہیں جو اب تک جزیرہ العرب کی ایک بڑی اور مضبوط شاخ سمجھی جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اختلافات کی ایک وجہ عمر النھدی نامی ایک کمانڈر کی وجہ سے بھی پیدا ہوئے ہیں جس پرامریکی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے کا شبہ ہے اور کہا جا رہا ہے کہ النھدی نے قاسم الریمی کو قتل کرانے میں امریکیوں کی مدد کی تھی۔حضرموت سے تعلق رکھنے والے عمر النھدی کو خالد باطرفی کا قریبی ساتھی خیال کیا جاتا ہے۔ اسے سنہ 2015ء کودیکھا گیا جب اس نے المکلا میں ایک سرکاری عمارت پر ری پبلیکن محل پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس وقت اس کے قریب القاعدہ کا نہیں بلکہ یمن کا پرچم موجود تھا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ النھدی نے قاسم الریمی کو اس کی پناہ گاہ سے ایک ہفتہ قبل باہر نکالا تھا۔ اس کے چند روز کے بعد الریمی کو امریکیوں نے قتل کردیا تھا۔ اس لیے القاعدہ ارکان کو شبہ ہے کہ الریمی کو النھدی کی خفیہ سازش اور امریکیوں کے ساتھ ملی بھگت سے قتل کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.