احتجاجی سیاست کرنے والے ہی بلوچستان کے مسائل کے ذمہ دار ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

احتجاجی سیاست کرنے والے ہی بلوچستان کے مسائل کے ذمہ دار ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

کوئٹہ 25جولائی :۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے صدروزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ احتجاجی سیاست کرنے والے ہی بلوچستان کے مسائل کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں بلوچستان کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا، اگر ماضی کی پالیسیاں، منشور اور تقاریر صحیح ہوتیں تو ہم ترقی میں سب سے آگے ہوتے اور آج سہولتوں کی عدم دستیابی کا رونا نہ رورہے ہوتے، اس میں ہم ہمارے دوست اور اکابرین بھی شریک ہوں گے اور سیاسی عمل کا حصہ بھی رہے ہوں گے اور شاید ان کی نیتوں میں فتور بھی نہیں ہوگا لیکن صوبے کے لئے وہ سب کچھ نہ کیا جاسکا جو کہ ہونا چاہئے تھا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے زیراہتمام منعقدہ شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں احسان اللہ خاکسار نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ مستونگ اور دیگر علاقوں سے بھی سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد نے بی اے پی میں شرکت کا اعلان کیا، تقریب میں بلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین اور سینکڑوں کی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر صوبے کا سیاسی منظر نامہ دیکھا جائے تو یہاں اقتدار کے حصول کے لئے بڑے نقصانات اٹھائے گئے، قوم قبیلہ، مذہب اور زبان کی بنیاد پر لوگوں کو لڑایا گیا، کیونکہ عوام ترقی کی امید پر ان سیاسی جماعتوں کے پیچھے تھے، انہوں نے کہا کہ ہر وہ شخص جو بلوچستانی ہے اپنے علاقے کی خوشحالی، اپنے بچوں کی اچھی تعلیم، سڑک، ہسپتال، بجلی اور روزگار چاہتا ہے، جس کی امید پر وہ ہر سیاسی جماعت کے پیچھے چلتا رہا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان وہ صوبہ ہے جس نے خون خرابہ اور پسماندگی دیکھی جس طرح ایک معذور اور غریب شخص کا مقابلہ ایک امیر اور صحت مند سے نہیں کیا جاسکتا اسی طرح بلوچستان کا مقابلہ دیگر صوبوں سے نہیں کیا جاسکتا،تاہم یہاں محنتی، اچھے اور محب وطن لوگ ہیں جو صوبے اورملک کی تقدیر بدلیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ صوبہ ترقی کرے لیکن جہاں بھی ہمارے قدم جاتے ہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کا منشور ہے کہ اب صرف ترقی اور خوشحالی ہوگی اور ہم وہ کچھ کریں گے جو گذشتہ 70برسوں میں نہیں ہوا، ہمارے منشور کی بنیاد بلوچستان ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی بنیاد پر ہمیں کامیابی دی ہے کہ ہم نے اس اجڑے ماحول میں کردار ادا کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی پہلی جماعت ہے جس کی بنیاد ایک سال قبل رکھی گئی منشور بنایا گیا انتخابات میں حصہ لیا حکومت بنائی اور ایک متوازن بجٹ دیا جو ایک تاریخی حقیقت ہے اور ایک سال کی قلیل مدت میں اتنا سب کچھ کرنا آسان نہیں اور اس کے لئے پارٹی قائدین اور ورکرز نے منفرد کردار ادا کیا، ہم نے جو بھی وعدے کئے انہیں بجٹ میں ہر حوالے سے پورا کیا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ انفرادی طور پر ہر شخض مقبولیت چاہتا ہے، کونسلر سے لے کر رکن پارلیمنٹ تک پہنچنے کے لئے محنت کرتا ہے، لیکن جس نظام میں پارٹی مقبول ہوتی ہے لوگ کمزوری کے باوجود اس کی تعریف کرتے ہیں، اگر ہماری جماعت صوبے کو ترقی دے گی تو پھر انفرادی کمزوری کو بھی لوگ معاف کردیں گے لیکن اگر پارٹی کمزور ہوگی توپھر انفرادی کامیابی کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ پارٹی کو مقبول بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے عوام کی خواہشات پر پورا اترا جائے،ان کی پہلے دن سے خواہش ہے کہ پارٹی کارکن پارٹی کا جھنڈا اور کارڈ لے کر جہاں بھی جائے لوگ اس سے یہ نہ پوچھیں کہ وہ کون ہے بلکہ صرف پارٹی ہی اس کی پہچان ہو،

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک مخلوط حکومت ہے اور ہم ایک ذہن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، مشکلات اورچیلنجز کے باوجود محنت کررہے ہیں تاکہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرکے سرخرو ہوسکیں، بجٹ ہمارے وعدوں کا عکاس ہے جس میں انصاف رواادری اور برابری کو ملحوظ رکھتے ہوئے سب اضلاع کو یکساں اہمیت دی گئی ہے، برشور کا گرڈ اسٹیشن ہم نے منظور کیا لیکن اپوزیشن اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہی ہے حالانکہ نہ تو اپوزیشن کے پاس اس منصوبے کی منظوری اور نہ ہی فنڈز دینے کا اختیار ہے، یہ منصوبہ بلوچستان عوامی پارٹی کے نمائندوں کی مشاورت سے منٖظور ہواہے، کوئٹہ کی ترقی کے لئے آئندہ تین سالوں میں پچاس ارب روپے خرچ کریں گے ، دس ہزار سے زائد ملازمتیں مشتہر کی گئی ہیں

جن پر بلوچستان کے بیروزگار لگیں گے، بلوچستان عوامی انڈومنٹ قائم کیا گیا ہے، اور اس سمیت بہت سے منصوبے شروع کئے گئے ہیں اور ہم اپنی ایک سال کی کارکردگی صوبے، ملک اور پوری دنیا کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نیک نیتی سے انجینئروں، ڈاکٹروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مسائل حل کریں گے لیکن وہ بھی صوبے کے وسائل کے مطابق ڈیمانڈ دیں، جلسہ جلوس اور دھرنے نہ دیں، انہوں نے کہا کہ جو جماعتیں دھرنوں میں بیٹھ کر اشتعال پیدا کرتی ہیں یہ انہی کے پیدا کردہ مسائل ہیں، ہم نے یہ مسائل پیدا نہیں کئے لیکن انہیں حل ضرور کریں گے، نوجوان طبقہ کو ضائع اور خوار نہیں ہونے دیں گے، سی پیک ساحل ووسائل اور ریکوڈک سمیت سب کچھ بلوچستان کے لئے بروئے کار لائیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ پارٹی میں شمولیت کرنے والوں کے شکر گزار ہیںجنہوں نے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا اور شمولیتی پروگرام جلسہ کی شکل اختیار کرگیا، جلد پارٹی کے زیراہتمام جلسہ عام کا انعقاد کریں گے جس میں ہر ضلع سے لوگ شریک ہوں گے، وزیراعلیٰ نے پارٹی رہنما شہید سراج رئیسانی کی ملک ، صوبے اور پارٹی کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید ان کے دوست اور بھائی تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں