امریکہ میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوگئی

0

واشنگٹن/ کورونا وائرس کو چینی وائرس قرار دینے والے ملک امریکا میں حیران کن طور پر اس مرض سے سب سے زیادہ لوگ متاثر ہوگئے اور 27 مارچ کی صبح وہاں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 85 ہزار سے زائد ہوگئی۔امریکا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اس وبا کے مرکز سمجھے جانے والے ملک چین سے بھی زیادہ ہوگئی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکا میں اس مرض سے ہلاکتیں بھی چین سے بڑھ جائیں گی۔کورونا وائرس کا آغاز دسمبر 2019 میں چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے ہوا تھا اور وہاں پر مجموعی طور پر 81 ہزار 782 افراد اس مرض سے متاثر ہوئے جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد 3200 سے بھی کم رہی۔چین میں کورونا وائرس کے پھیلا میں رواں ماہ مارچ میں حیران کن کمی آئی اور رواں ماہ کے وسط تک ووہان سے ایک بھی کیس سامنے نہین آیا تھا جس کے بعد ووہان سے لاک ڈان کو بھی سلسلہ وار ختم کرنے کا آغاز کیا گیا۔اور اب امریکا میں ہی اس وائرس کے سب سے زیادہ مریض سامنے آگئے جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی چین سمیت دیگر ممالک سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، کیوں کہ وہاں ہلاکتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔عالمی ادارہ صحت، امریکی صحت سے متعلق اداروں اور ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے کورونا وائرس کیمریضوں کے اعداد و شمار کے لیے بنائے گئے آن لائن میپ کے مطابق امریکا میں 27 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 86 تک پہنچ گئی۔جہاں امریکا میں مریضوں کی تعداد میں دیکھتے ہی دیکھتے حیران کن اضافہ ہوا، وہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھی اور 27 مارچ کی صبح تک وہاں ہلاکتوں کی تعداد 1200 کے قریب تھی۔امریکا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 246 ریکارڈ ہلاکتیں ہوئیں جب کہ گزشتہ دو دن سے امریکا سے یومیہ 10 ہزار سے زائد کورونا کے کیس سامنے آنے کے بعد امریکا نے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا کے تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا۔26 مارچ کی شام تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریض چین کے بعد یورپی ملک اٹلی میں تھے تاہم اب اٹلی مریضوں کی تعداد کے حوالے سے پیچھے ہوچکا ہے۔کورونا وائرس کے مریض جہاں امریکا میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، وہیں اٹلی کے بعد اسپین، جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں بھی تیزی سے نئے کیس سامنے آ رہے ہیں۔اگرچہ ایران میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، تاہم وہاں نئے کیسز کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے اور وہاں یورپی ممالک اور امریکا سے کم نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.