ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر)فیاض علی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف اس جاری جنگ میں علمائے کرام کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی حکومت کا ساتھ دینا ہوگا

0

لورالائی:۔ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر)فیاض علی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف اس جاری جنگ میں علمائے کرام کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی حکومت کا ساتھ دینا ہوگا،لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی،علمائے کرام نے تمام ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہائی کرائی ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے کئے گئے حفاظتی انتظامات اور نماز تراویح میں کئے جانے والے انتظامات کے بارے میں اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام وسیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں ایس ایس پی جواد طارق،ایف سی میجر افتخار،اسسٹنٹ کمشنر بوری محمد سلیم کاکڑ،تحصیلدار اسد خان شیرانی،محکمہ انفارمیشن محمود بلوچ،چیف آفیسر میونسپل کمیٹی علی احمد زہری،جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر مولانا فیض اللہ،پشتون خواہ نعمت اللہ جلالزئی،عوامی نیشنل پارٹی عبدالسلام ناصر،شمس فاؤنڈیشن کے چیئرمین شمس حمزہ زئی،مسلم لیگ ن ناصر خان ناصر،مسجد کے پیش امام مولوی جماالدین،انجمن تاجران کے ضلعی صدر صابر خان کدیزئی،سٹیزن ایکشن کمیٹی فکیرمحمد جلالزئی اور دیگر نے شرکت کی،اجلاس میں علمائے کرام وسیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے مختلف تجاویز دیں،ڈپٹی کمشنر فیاض علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 20نکاتی ایس او پیز درج ہیں ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی،اگر ماہ رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہورہا ہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں پالیسی پر نظرثانی کرے گی اس بار کابھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ مخصوص علاقے کیلئے احکامات اور پالیسی بدل دی جائے گی انہوں نے کہاکہ علمائے کرام اور ہم سب ملکر اس کورونا وائرس کو شکست دینی ہے کورونا وائرس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے،کورونا وائرس کے اثرات اسلام سمیت دیگر مذائب پر بھی پڑی ہے ہمارا مذہب علاج معالجے کا قائل ہے شریعت میں ہے کہ جہاں وبائی بیماری پھیل جائے وہاں جانے سے گریز کیا جائے،یہ کہنا غلط ہے کہ مذہبی طبقہ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتا کورونا وائرس کا کوئی علاج نہیں،احتیاط ہی واحد علاج ہے انہوں نے کہا کہ تمام ایس او پیز پر 90فیصد سے زاہد عمل درآمد ہونا ضروری ہے مساجد میں ایک نمازی سے دوسرے نمازی کا فاصلہ 4فٹ سے زیادہ رکھا جائے،مسجد سے نکلنے پر تاکید کرتے ہیں کہ نمازی ایک ساتھ نہ نکلیں اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں حالات دیگر ممالک کے نسبت بہتر ہے اور ہم سب کو ملکر عبادات کو ایک مخصوص پلان کے تحت جاری رکھناہے اور حفاظتی انتظامات بھی کرنے ہیں جس میں ہم سب کی بھلائی اور صحت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.